خیبرپختونخوا میں 12 اکتوبر کے بعد پشاور ہائیکورٹ کی آرٹیکل 199 کے تحت کارروائیاں معطل
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی اور دیگر افراد کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کی 12 اکتوبر یا اس کے بعد کی گئی کارروائیاں معطل کردیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت خیبرپختونخوا میں شہری انتظامیہ کی معاونت کے لیے مسلح افواج تعینات ہیں، اس لیے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کی کارروائیاں آئین کے آرٹیکل 245 کی ذیلی شق 4 کے مطابق معطل رہیں گی۔
خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور ہائیکورٹ کے ان عبوری احکامات کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا جن میں تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے روک دیا گیا تھا۔ اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔
دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے مؤقف اختیار کیا کہ جس علاقے میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج شہری انتظامیہ کی معاونت کر رہی ہو، وہاں ہائیکورٹ آرٹیکل 199 کے تحت اپنے اختیارات استعمال نہیں کرسکتی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے وکیل شاہ فیصل نے اعتراض کیا کہ حکم امتناعی جاری کرنے سے پہلے ان کا مؤقف بھی سنا جانا چاہیے۔
عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ صدر مملکت نے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی، جس کے بعد گورنر کے ذریعے صوبے کا انتظامی کنٹرول سنبھالا گیا اور وفاقی حکومت نے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کی اجازت دی۔ اس دوران تھری ایم پی او کے تحت نظر بندی کے احکامات کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا، جہاں بعض افراد کو ابتدائی مرحلے میں ہی رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ آرٹیکل 245 کی ذیلی شق 3 کے تحت ہائیکورٹ کے اختیارات پر پابندی کی آئینی حیثیت اور اس کی حدود کا محتاط جائزہ ضروری ہے۔ یہ پابندی بادی النظر میں صرف اسی عرصے تک برقرار رہتی ہے جب تک مسلح افواج شہری انتظامیہ کی معاونت کے لیے فرائض انجام دے رہی ہوں۔ عدالت نے اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو سات روز میں ان علاقوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے جہاں فوج کی شہری انتظامیہ کی معاونت کے لیے موجودگی یا فرائض کی مزید ضرورت نہیں۔ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد عدالت اپنے حکم میں ترمیم پر غور کرے گی۔ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔
بشکریہ روزنامہ جسارت