امریکی اور اسرائیلی سیاست میں تبدیلی: جنگ بندی مطالبات میں شدت
واشنگٹن: امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی کو شدید دھچکا دیا ہے۔
ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے، جس سے صدر کو مستقبل میں فوجی اخراجات اور جنگی فیصلوں پر سخت قانون سازی کے لیے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسرائیل میں بھی سیاسی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے جہاں بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد حکومت سازی کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ان دونوں انتخابی نتائج کو غزہ، فلسطین اور ایران کے عوام کے لیے ایک بڑی اخلاقی فتح اور جنگ کے خلاف عوامی فیصلہ سمجھا جا رہا ہے۔
امریکی انتخابی عمل کے دوران ووٹروں نے مہنگائی اور بدعنوانی کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف جاری محاذ آرائی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ پیو ریسرچ کے سروے کے مطابق امریکی عوام کی بڑی تعداد ایران میں فوجی کارروائیوں کے حق میں نہیں ہے اور وہ جنگ کے نتائج پر حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی تاریخ میں پہلی بار مسلمان امیدواروں کی کامیابی نے بھی سیاسی منظرنامہ تبدیل کر دیا ہے۔
مشی گن سے عبدالرحمان السید اور الینوائے سے نبیلہ سید کا انتخاب اس بات کا غماز ہے کہ امریکی عوام اب ملکی پالیسیوں میں غیرجانبدارانہ اور انسانی حقوق پر مبنی مؤقف کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اسرائیلی کنیسٹ کے نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے بلاک کو 53 نشستیں ملی ہیں جو حکومت سازی کے لیے ناکافی ہیں۔ اب انہیں حکومت کے لیے اتحادیوں کی تلاش کرنا ہوگی، تاہم اپوزیشن اور عرب جماعتوں کا مضبوط کردار مستقبل میں غزہ میں جاری انسانی بحران اور امداد کی فراہمی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد اب واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی بات چیت کا راستہ ہموار ہونا چاہیے۔ پاکستان اور دیگر ثالث ممالک کو چاہیے کہ وہ جنگ بندی کے لیے ٹھوس کوششیں کریں۔
مجموعی طور پر یہ انتخابی تبدیلیاں جنگ بندی کے لیے نئی گنجائش پیدا کرتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امن تب ہی ممکن ہے جب شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔ حقیقی کامیابی تب ہوگی جب غزہ اور ایران کے خاندان دوبارہ محفوظ زندگی گزار سکیں گے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت