حکومت کا نان فائلر دکانداروں کو مزید 3 ماہ کی مہلت دینے کی تجویز پر غور

اسلام آباد: حکومت نے نئے ٹیکس نظام میں شامل نہ ہونے والے 12 لاکھ نان فائلر دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے اور انہیں مزید 3 ماہ کی مہلت دینے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں ٹیکس حکام نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے سامنے 2 اہم تجاویز پیش کی ہیں جن کا مقصد تاجر برادری کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔
پہلی تجویز کے تحت تاجروں کو جنوری کے آخر تک گوشوارے جمع کرانے کی سہولت دی جائے گی، جس کے عوض انہیں 85 ہزار روپے سرچارج ادا کرنا ہوگا۔ یہ رقم معمول کے ٹیکس قوانین کے تحت عائد کیے جانے والے جرمانے سے 90 ہزار روپے کم ہے۔ دوسری تجویز میں انکم ٹیکس قوانین کے مطابق ایک لاکھ 75 ہزار روپے جرمانے اور مکمل ٹیکس آڈٹ کا آپشن موجود ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو آگاہ کیا کہ کسی بھی حتمی کارروائی سے قبل اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لی جائے گی، تاہم موجودہ ٹیکس اسکیم میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔
حکومت کا بنیادی ہدف ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا تھا جس کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرائی گئی تھی تاکہ دکانداروں کو مراعات فراہم کی جا سکیں۔
حکومت نے اس اسکیم کے تحت دکانداروں کو مجموعی فروخت پر صرف ایک فیصد ٹیکس ادا کرنے، آڈٹ سے استثنیٰ اور نقد لین دین کی اجازت دی تھی۔ حکومتی توقعات کے برعکس 38 لاکھ نان فائلر تاجروں میں سے محض 222 افراد نے ہی اکتوبر کے اختتام تک گوشوارے جمع کرائے تھے۔
ٹیکس حکام نے تقریباً 15 لاکھ دکانداروں کی نشاندہی کی ہے جو اس اسکیم کے دائرہ کار میں آتے ہیں لیکن انہوں نے اب تک حصہ نہیں لیا۔
کمیٹی کے چیئرمین نوید قمر نے فکسڈ ٹیکس اسکیم کی ناکامی پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومت سے استفسار کیا کہ کیا انتظامیہ تاجروں کی جانب سے ہڑتال کی دھمکیوں کے باوجود جرمانے اور قانونی کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قانونی دفعہ 214 اے کے تحت چھوٹے دکانداروں کو رعایت دی جا سکتی ہے، تاہم دیگر ٹیکس دہندگان کے ساتھ امتیازی سلوک کا قانونی سوال بھی بدستور موجود ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت