جمعہ، 6 نومبر، 2026 · 27 جمادی الاول، 1448 ہجری

پنجاب میں کرپشن سے متعلق بیان کا مقصد متبادل انتظام کیلئے جگہ بناناہے، خواجہ آصف

قومی خبریں
پنجاب میں کرپشن سے متعلق بیان کا مقصد متبادل انتظام کیلئے جگہ بناناہے، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پنجاب میں کرپشن سے متعلق بیانات کا مقصد متبادل انتظام کے لیے راہ ہموار کرنا ہے تاکہ حکومت کو بدنام کرکے نئی قیادت سامنے لائی جاسکے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کچھ سرمایہ دار بھی گزشتہ 8 سے 10 ماہ سے متحرک ہیں اور بظاہر ایک نیا گروپ تشکیل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ دو سال بعد انتخابات ہونے ہیں اور ان عناصر کا خیال ہے کہ موجودہ سیاسی قیادت پرانی ہو رہی ہے، شاید وہ ریٹائر ہوجائے یا آئندہ انتخابات میں حصہ نہ لے۔ ان کے مطابق 50 سال کے لگ بھگ عمر رکھنے والے بعض سرمایہ دار بھی اس نئے گروپ کا حصہ ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن صرف پنجاب نہیں بلکہ پورے پاکستان میں موجود ہے اور عام آدمی کو روزانہ اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا نے ان کے بارے میں بات کی تو انہوں نے بھی جواب دیا، تاہم نظریاتی اختلافات اپنی جگہ لیکن تلخی اس حد تک نہیں ہونی چاہیے کہ لوگ ایک دوسرے کو سلام کرنے کے بھی روادار نہ رہیں۔ اختلاف رائے میں بھی دو نمبری نہیں ہونی چاہیے۔ تحریک انصاف نے اپنے چار سالہ دور میں سیاسی ماحول میں بہت زہر گھولا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے نہ کبھی فکسڈ گیم کھیلی ہے اور نہ ہی وہ ایسی سیاست کے کھلاڑی ہیں۔ انہیں نہیں لگتا کہ حکومت کھولے گئے مقدمات دوبارہ بند کرے گی۔ اگر حکومت نے ایسا کوئی سمجھوتا کیا تو اس کی قیمت اسے خود ادا کرنا پڑے گی، مولانا فضل الرحمان کو نہیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ یہ بھی دیکھنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان جنہیں صیہونی جماعت قرار دیتے تھے، آج انہی کے سرپرست بن گئے ہیں اور اس جماعت نے اب مولانا کی پناہ میں جگہ لے لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں اور یہ اختلافات پہلے بھی موجود تھے اور آئندہ بھی رہیں گے، لیکن جنہیں پہلے صیہونی جماعت اور اسرائیل کا ایجنٹ قرار دیا جاتا تھا، اب ان کے ساتھ محبت اور قربت کا اظہار کیا جارہا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت