جمعہ، 6 نومبر، 2026 · 27 جمادی الاول، 1448 ہجری

‏ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیز، قطر بھی متحرک

قومی خبریں
‏ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیز، قطر بھی متحرک

تہران: ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی آگئی ہے جبکہ ثالثوں کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق ٹھوس تجاویز پیش کیے جانے کے بعد اہم پیش رفت کی توقع کی جارہی ہے۔ ایران ان تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور قطر نے بھی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع ختم کرانے کے لیے ثالثوں نے ایران کو متعدد ٹھوس تجاویز پیش کی ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق امور بھی شامل ہیں۔ ان تجاویز کا مقصد جوہری معاملے پر اختلافات کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے قابل قبول راستہ تلاش کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف سفارتی رابطے جاری ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ فریقین کے درمیان موجود اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکے۔ ایران کی جانب سے تجاویز کو قبول کرنے یا ان پر باضابطہ ردعمل دینے کے حوالے سے حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق قطر نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں میں نمایاں تیزی لائی ہے۔ قطری حکام مختلف سطحوں پر ایرانی قیادت اور عہدیداروں کے ساتھ رابطے کرکے جنگ کے خاتمے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قطری حکام نے حالیہ دنوں میں آرمینیا میں بھی ایرانی عہدیداروں سے مذاکرات کیے ہیں۔ ان ملاقاتوں کو خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی تلاش کے لیے جاری کوششوں کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔

قطر کی سفارتی سرگرمیاں اس اعتبار سے اہم ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہے بلکہ پورے خطے کی سلامتی، توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت بھی متاثر ہونے کے خدشات موجود ہیں۔ خلیجی خطے میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات اور تجارتی راستوں کو لاحق خطرات نے بھی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

جنگ کے خاتمے کے لیے جاری ان سفارتی کوششوں میں جوہری پروگرام کا معاملہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کا ایک بڑا محور ایران کی جوہری سرگرمیاں اور ان سے متعلق شرائط ہیں۔ ثالثوں کی کوشش ہے کہ ان اختلافات پر کوئی ایسا اتفاق رائے پیدا کیا جائے جس سے مذاکرات کی راہ ہموار ہو اور فوجی تصادم کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔

یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ثالثوں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز میں کون سی شرائط شامل ہیں اور ایران ان پر کس حد تک اتفاق کرنے کے لیے تیار ہے۔ اسی طرح امریکا کی جانب سے ان تجاویز پر ممکنہ ردعمل کی تفصیلات بھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

دوسری جانب قطر کی جانب سے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے علاقائی سطح پر بھی رابطے جاری ہیں۔ آنے والے دنوں میں ایرانی حکام کے ردعمل اور ثالثوں کی مزید کوششوں سے یہ واضح ہوگا کہ آیا فریقین مذاکرات کے ذریعے کسی سمجھوتے تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت