جمعہ، 6 نومبر، 2026 · 27 جمادی الاول، 1448 ہجری

اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف اپوزیشن متحد

قومی خبریں
اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف اپوزیشن متحد

تل ابیب: اسرائیل میں عرب جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ نے بھی اپوزیشن رہنما آئزنکوٹ کو نیا وزیراعظم بنانے کی حمایت کردی، جس کے بعد ان کی حمایت میں سفارش کرنے والے ارکان کی تعداد بڑھ کر 67 ہوگئی ہے، جو حکومت سازی کے لیے درکار 61 ارکان کی اکثریت سے زیادہ ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ کنیسٹ میں تازہ سیاسی پیش رفت کے بعد آئزنکوٹ کو 67 ارکان کی حمایت حاصل ہونے کی توقع ہے۔ عرب جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ میں شامل تینوں جماعتوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وہ صدر اسحاق ہرزویگ کو آئزنکوٹ کو نیا وزیراعظم نامزد کرنے کی سفارش کریں گی۔

جوائنٹ لسٹ کے مطابق یہ فیصلہ عوامی مطالبے اور سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے،اس کا مقصد بنجمن نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی دوبارہ اقتدار میں واپسی روکنا ہے۔

عرب جماعتوں کے اتحاد کی جانب سے آئزنکوٹ کی حمایت کے اعلان کے بعد حکومت سازی کے لیے جاری سیاسی مشاورت میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اپوزیشن رہنما کو ملنے والی حمایت سے نیتن یاہو کے مقابلے میں ان کے لیے پارلیمانی حمایت کا دائرہ وسیع ہوا ہے جبکہ ایسی مشترکہ حکومت کے قیام کے امکانات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں جس میں نیتن یاہو دوبارہ اقتدار کا حصہ بن سکیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے حالیہ انتخابات میں کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکی تھی، جس کے باعث حکومت سازی کا معاملہ پارلیمانی جماعتوں کی حمایت اور سیاسی اتحادوں پر منحصر ہوگیا ہے۔

اسرائیلی آئین کے تحت صدر اسحاق ہرزویگ مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے کہ حکومت بنانے کی دعوت کس رہنما کو دی جائے۔ وزیراعظم نامزد کرنے کے لیے سفارشات اور پارلیمانی حمایت کو اس فیصلے میں اہمیت حاصل ہوگی، حتمی طور پر حکومت سازی کا عمل پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے مشروط ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت