جمعرات، 5 نومبر، 2026 · 26 جمادی الاول، 1448 ہجری

جماعت اسلامی نے محدود اختیارات کے باوجود کراچی کے 9 ٹاؤنز میں ترقیاتی کام کیے، منعم ظفر خان

قومی خبریں
جماعت اسلامی نے محدود اختیارات کے باوجود کراچی کے 9 ٹاؤنز میں ترقیاتی کام کیے، منعم ظفر خان

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے بلدیاتی حقوق کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کی اور حق دو کراچی تحریک کے ذریعے شہریوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کیا۔ صوبائی اسمبلی کے باہر 29 روزہ دھرنے کے نتیجے میں سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے پر مجبور ہوئی، تاہم انتخابات کے بعد بھی پیپلز پارٹی کی حکومت نے منتخب نمائندوں کو اختیارات دینے میں تاخیر کی۔

بلدیاتی کارکردگی کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے منتخب نمائندوں نے محدود اختیارات کے باوجود پہلے دن سے عوامی خدمت کا عزم کیا اور کراچی کے 9 ٹاؤنز میں تعمیر و ترقی کے کام کیے۔ ٹاؤنز میں ٹوٹی سڑکوں، تباہ حال گٹروں اور خستہ حال تعلیمی اداروں کی بہتری کو ترجیح دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ٹاؤنز میں تقریباً 50 فیصد اسکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ گلشن اقبال ٹاؤن کے اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں 100 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دیگر ٹاؤنز میں بھی طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ٹاؤنز میں ایجوکیشن کارڈ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت کراچی کے 9 ٹاؤنز میں 50 ہزار طلبہ کو 10 ہزار روپے مالیت کے ایجوکیشن کارڈ فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

منعم ظفر خان نے بتایا کہ کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے 200 اسکالرشپس کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ یونیورسٹی کی 8 پوائنٹ بسوں کی تزئین و آرائش کرکے انتظامیہ کے حوالے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کے ٹاؤنز میں 29 بنیادی صحت مراکز میں سے 19 کو بہتر بنایا گیا ہے اور عوام کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہانا تھا کہ سندھ میں 78 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ حکومت تعلیم کے فروغ کے بجائے تعلیمی اداروں سے جان چھڑا رہی ہے۔ کراچی کا تقریباً 50 فیصد علاقہ پانی سے محروم ہے، شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ کے فور منصوبہ 22 سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکا اور منصوبے کی لاگت 25.5 ارب روپے سے بڑھ کر 172 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کراچی کے شہریوں کے ساتھ ظلم ہے۔ کراچی میں پانی کی فراہمی کے لیے 72 ارب روپے کے منصوبے پر کام جاری ہونے کے باوجود سڑکیں کھدی ہوئی ہیں۔

انہوں نے بی آر ٹی منصوبوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں نے کراچی کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے، جبکہ ریڈ لائن منصوبے میں تاخیر کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کراچی ملک کی معیشت میں نمایاں حصہ ڈالتا ہے، لیکن شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام اپنے حقوق، بہتر سہولیات اور ترقی کے حق دار ہیں۔ جماعت اسلامی نے نعمت اللہ خان کے دور میں بھی کراچی کی خدمت کی اور آج بھی عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ جماعت اسلامی نے صرف دعوے نہیں کیے بلکہ عملی طور پر کام کرکے دکھایا ہے۔

منعم ظفر خان نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کراچی کی تعمیر و ترقی کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں اور شہر کی بہتری میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی، تعمیر اور خوشحالی کے لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد جاری رہے گی۔

بشکریہ روزنامہ جسارت