بدھ، 4 نومبر، 2026 · 25 جمادی الاول، 1448 ہجری

امریکی انتخابی نتائج سے واشنگٹن کی ایران پالیسی تبدیل نہیں ہوگی: ایرانی سپریم لیڈر

قومی خبریں
امریکی انتخابی نتائج سے واشنگٹن کی ایران پالیسی تبدیل نہیں ہوگی: ایرانی سپریم لیڈر

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا میں سیاسی جماعتوں کی تبدیلی سے تہران کے خلاف واشنگٹن کی پالیسی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ امریکی انتخابی نتائج سے ایران کے حوالے سے اختیار کردہ معاندانہ رویے میں تبدیلی کی توقع رکھنا محض خوش فہمی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ امریکا میں ایک جماعت کی جگہ دوسری جماعت کے اقتدار میں آنے سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں، تاہم یہ سوچ درست نہیں۔ امریکی سیاست میں تبدیلی کے باوجود ایران کے خلاف دشمنی پر مبنی پالیسی برقرار رہے گی۔

ایرانی سپریم لیڈر نے ان لوگوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا جو سمجھتے ہیں کہ امریکا کو رعایتیں دے کر اس کی مخالفت اور دشمنی ختم کی جاسکتی ہے۔ ایسے تمام افراد سنگین غلط فہمی میں مبتلا ہیں، کیونکہ اس طرزِ عمل سے واشنگٹن کے رویے میں نرمی آنے کے بجائے اس کے مطالبات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ ایران کے خلاف جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس مرتبہ اسے پہلے سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرے گا۔

خلیج کی صورت حال اور آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ان حالات نے امریکا کی ناقابلِ تسخیر طاقت ہونے کا تصور ختم کردیا ہے۔ ان کے بقول حالیہ واقعات سے ایسی حکومتوں کی حقیقت بھی سامنے آگئی ہے جو اپنے عوام کی حمایت اور طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے بیرونی قوتوں کے سہارے اقتدار برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا، جسے وہ بڑا شیطان قرار دیتے ہیں، چاہتا ہے کہ ایرانی قوم غیرمشروط طور پر ہتھیار ڈال دے، لیکن ایران کسی صورت اس مطالبے کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے مطابق ہتھیار ڈالنے کی جانب معمولی پیش رفت بھی ایرانی قوم اور شہدا کی قربانیوں کو رائیگاں کرنے کے مترادف ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا کے سامنے پسپائی اختیار کی گئی تو اس سے مخالف قوتوں کے حوصلے بلند ہوں گے اور وہ مستقبل میں مزید سخت شرائط عائد کرنے کی کوشش کریں گی۔

ایرانی سپریم لیڈر نے خبردار کیا کہ امریکی مطالبات تسلیم کرنے کا نتیجہ مزید جنگوں اور جارحانہ اقدامات کی صورت میں نکل سکتا ہے، اس لیے دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

بشکریہ روزنامہ جسارت