انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس خطرے میں

اسلام آباد: انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے ملنے والی اہم تجارتی سہولت جی ایس پی پلس کے خاتمے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اس تشویشناک صورتحال پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔
سید نوید قمر نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ انسانی حقوق کے معاملات پر یورپی یونین سے ملنے والے منفی اشارے پاکستان کے تجارتی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی برآمدات پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
یورپی یونین کی تازہ ترین مانیٹرنگ رپورٹ میں انسانی حقوق، بنیادی آزادیوں اور عدالتی نظام پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں جبری گمشدگیوں، آزادی اظہار پر قدغن اور سائبر کرائم قوانین میں فوری اصلاحات اور تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی نے وضاحت کی کہ موجودہ اسکیم دسمبر 2028 تک فعال رہے گی اور حکومت اگلی مدت کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مستقبل کے تقاضوں کو دیکھے گی۔
پاکستان نے گزشتہ سال اس ترجیحی نظام کے تحت یورپی یونین کو 7.5 ارب یورو کی برآمدات کیں جو ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2023 سے 2025 کے دوران انسانی حقوق کے شعبے میں بہتری کے بجائے تنزلی دیکھنے میں آئی ہے۔
اجلاس کے دوران ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے سرحدوں کی بندش اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت میں حائل رکاوٹوں پر تشویش ظاہر کی۔
بلال کیانی نے جواب دیا کہ قومی سلامتی کے تقاضوں کے پیش نظر سرحدوں کی بندش جیسے سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں جو ناگزیر ہیں۔
پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس برقرار رکھنے کے لیے جیلوں میں اصلاحات، تشدد کے خاتمے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر فوری اور ٹھوس عملدرآمد کرنا ہوگا۔
بشکریہ روزنامہ جسارت