بدھ، 4 نومبر، 2026 · 25 جمادی الاول، 1448 ہجری

شمالی امریکا اور یورپ ایک ہیں: دنیا میں 7 نہیں 6 براعظم ہونے کا حیران کن دعویٰ

قومی خبریں
شمالی امریکا اور یورپ ایک ہیں: دنیا میں 7 نہیں 6 براعظم ہونے کا حیران کن دعویٰ

ڈربی: برطانیہ کی ڈربی یونیورسٹی کے ارضیات دان ڈاکٹر جارڈن فیتھیان نے ایک ایسی تحقیق پیش کی ہے جس نے عالمی جغرافیائی نظریات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا میں 7 نہیں بلکہ صرف 6 براعظم موجود ہیں کیونکہ شمالی امریکا اور یورپ درحقیقت ایک ہی ہیں۔

محققین نے بحر اوقیانوس کی تہہ میں موجود 2 ہزار کلومیٹر طویل پہاڑی سلسلے کا گہرائی سے معائنہ کیا۔ یہ پہاڑی سلسلہ گرین لینڈ سے شروع ہو کر آئس لینڈ اور اسکاٹ لینڈ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ علاقہ شمالی امریکی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان ایک اہم سنگم کی حیثیت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر جارڈن فیتھیان نے کہا کہ برسوں سے یہ مانا جاتا رہا ہے کہ یہ دونوں پلیٹیں سوا 5 کروڑ سال پہلے ایک دوسرے سے الگ ہو گئی تھیں، تاہم ان کی ٹیم نے زیر آب پہاڑی سلسلے میں کئی ایسے مقامات دریافت کیے ہیں جہاں یہ دونوں پلیٹیں اب بھی آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔

یہ سائنسی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ شمالی امریکا اور یورپ اب بھی ارضیاتی لحاظ سے ایک ہی براعظم کا حصہ ہیں۔ آج سے تقریباً 25 کروڑ سال قبل یہ تمام خشکی ایک بڑے سپر براعظم کا حصہ تھی جسے ماہرین ارضیات پانگیا کے نام سے جانتے ہیں۔ اس قدیم سپر براعظم کے ٹکڑے ہونے کے بعد بھی یہ دونوں پلیٹیں مکمل طور پر جدا نہیں ہو سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ارضیاتی سائنس کے روایتی تصورات میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر یہ تحقیق درست ثابت ہوتی ہے تو دنیا بھر کے تعلیمی نصاب اور جغرافیائی نقشوں میں تبدیلی لانا پڑ سکتی ہے۔

یہ انکشاف زمین کی اندرونی ساخت اور براعظموں کے ارتقائی عمل کو سمجھنے میں نئی راہیں ہموار کرے گا۔

ڈاکٹر جارڈن فیتھیان نے مزید کہا کہ زیر آب موجود یہ پہاڑی سلسلہ دونوں براعظموں کے درمیان ایک مضبوط زمینی رشتے کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ یہ تحقیق جغرافیہ دانوں کے لیے ایک نیا اور دلچسپ چیلنج ہے جس پر مزید بحث کی توقع کی جا رہی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت