بدھ، 4 نومبر، 2026 · 25 جمادی الاول، 1448 ہجری

امریکی ریاست فلوریڈا میں تباہ ہونے والا طیارہ فضا میں ہی ٹوٹنے لگا تھا، 9 افراد ہلاک

قومی خبریں
امریکی ریاست فلوریڈا میں تباہ ہونے والا طیارہ فضا میں ہی ٹوٹنے لگا تھا، 9 افراد ہلاک

امریکی ریاست فلوریڈا کی پام بیچ کاؤنٹی میں یکم نومبر کو گر کر تباہ ہونے والا نجی طیارہ زمین سے ٹکرانے سے پہلے ہی فضا میں جزوی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا تھا۔

حادثے میں 2 پائلٹس سمیت طیارے میں سوار تمام 9 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

تفتیش کاروں کے مطابق طیارے کا ملبہ تقریباً آدھے میل کے دائرے میں پھیلا ہوا ہے اور اس کے کچھ حصے حادثے کے مقام سے کافی فاصلے پر بھی مل سکتے ہیں۔ فلائٹ ڈیٹا کے مطابق طیارہ محض ایک منٹ میں تقریباً 27 ہزار فٹ نیچے آگیا۔

طیارے کی آخری آڈیو ریکارڈنگ میں معاون پائلٹ کو گھبرائی ہوئی آواز میں یہ کہتے سنا گیا کہ طیارہ 20 ہزار فٹ فی منٹ کی رفتار سے نیچے جا رہا ہے اور زمین سے ٹکرانے والا ہے۔ حادثے سے متعلق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ زمین پر گرنے سے پہلے ہی فضا میں ٹوٹنا شروع ہوگیا تھا۔

ہوا بازی کے ماہرین نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ڈیش کیم ویڈیوز اور تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طیارے کی دم کے اوپری حصے، جسے اسٹیبلائزر کہا جاتا ہے، کو نقصان پہنچا یا وہ الگ ہوگیا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس حصے کے متاثر ہونے سے طیارے کا توازن بگڑ سکتا ہے، تاہم حادثے کی حتمی وجہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

حادثے کا شکار طیارہ ٹیکساس کے شہر آسٹن سے بہاماس جا رہا تھا۔ طیارے میں ٹیکساس کے ایک خاندان کے چار افراد، ایڈم رابنسن، ہیلن شارپ اور ان کے دو بچے، 4 سالہ ایما اور 2 سالہ چارلی بھی شامل تھے۔

فضائی ٹریفک کنٹرول کے ریکارڈ کے مطابق طیارہ تقریباً 35 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا، جب پائلٹس نے شدید ہوا کے دباؤ اور جہاز پر برف جمنے کی اطلاع دی۔ بلندی بڑھانے کی اجازت ملنے کے تقریباً 30 سیکنڈ کے اندر طیارہ اچانک تیزی سے نیچے گرنے لگا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت