بدھ، 4 نومبر، 2026 · 25 جمادی الاول، 1448 ہجری

فوسل ایندھن کا خاتمہ: برازیل نے تیل و گیس کا متبادل منصوبہ شروع کردیا

قومی خبریں
فوسل ایندھن کا خاتمہ: برازیل نے تیل و گیس کا متبادل منصوبہ شروع کردیا

برازیلیا: برازیل نے کوئلے، تیل اور گیس پر عالمی انحصار بتدریج ختم کرنے کے لیے تاریخ کا پہلا جامع روڈ میپ جاری کر دیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد ممالک کو معیشت اور ترقیاتی اہداف متاثر کیے بغیر فوسل ایندھن کے متبادل کی جانب منتقل کرنا ہے۔

عالمی موسمیاتی کانفرنس کے سربراہ آندرے کوریا ڈو لاگو کا کہنا ہے کہ ان تجاویز کو دنیا بھر کی حکومتوں کے توانائی، مالیات اور انفرا اسٹرکچر کے محکموں میں عملی طور پر لاگو کیا جانا چاہیے۔ یہ اقدام ماحولیاتی معاہدوں پر صرف بحث کے بجائے عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

مجوزہ روڈ میپ میں فوسل ایندھن کی پیداوار کے دوران خارج ہونے والی زہریلی گیسوں کو کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

کانفرنس کے سربراہ نے مزید کہا کہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ روایتی ایندھن پر دی جانے والی سبسڈی ختم کر کے قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو ہر صورت فروغ دیں۔

دوسری جانب ماحولیاتی ماہرین نے اس منصوبے میں حتمی تاریخ اور واضح اہداف کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیرس معاہدے کے تحت عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو ڈیڑھ ڈگری تک محدود رکھنے کے لیے ٹھوس اور تیز تر اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔

برازیل نے جنگلات کی کٹائی روکنے کے لیے بھی ایک الگ اور اہم حکمت عملی پیش کی ہے۔ حکام کے مطابق 2030 تک جنگلات کے تحفظ کے لیے 300 ارب ڈالر جبکہ 2050 تک 500 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی، جبکہ اس وقت عالمی سطح پر صرف 85 ارب ڈالر دستیاب ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت دنیا بھر کو موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید خطرات کا سامنا ہے اور برازیل کی یہ نئی پیش رفت اس ضمن میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ان تجاویز پر عالمی برادری نے سنجیدگی سے کام کیا تو مستقبل میں توانائی کے بحران پر قابو پانا ممکن ہوگا۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ برازیل کا روڈ میپ ایک مثبت قدم ہے، مگر اس کی کامیابی کا انحصار عالمی مالی تعاون اور ممالک کی سیاسی وابستگی پر ہے۔ ماحول دوست پالیسیوں کے بغیر کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کو روکنا ایک انتہائی مشکل اور چیلنجنگ کام ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت