بدھ، 4 نومبر، 2026 · 25 جمادی الاول، 1448 ہجری

امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس کی اہم کامیابیاں، ری پبلکنز کو کئی نشستوں پر شکست

قومی خبریں
امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس کی اہم کامیابیاں، ری پبلکنز کو کئی نشستوں پر شکست

واشنگٹن: امریکا کے وسط مدتی انتخابات 2026 کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ، ایوان نمائندگان اور گورنرز کے اہم مقابلوں میں متعدد کامیابیاں حاصل کرلی ہیں۔

مختلف ریاستوں میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے، جبکہ سامنے آنے والے نتائج میں ڈیموکریٹک امیدواروں نے کئی اہم نشستوں پر اپنے ری پبلکن حریفوں کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق 36 ریاستوں میں گورنرز کے انتخاب کے نتائج بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

ابتدائی اعداد وشمار کے مطابق سینیٹ کی 45 نشستوں پر ڈیموکریٹس اور 36 پر ری پبلکن امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس نے 113 اور ری پبلکنز نے 62 نشستیں حاصل کی ہیں۔

تاہم ووٹوں کی گنتی مکمل نہ ہونے کے باعث یہ اعداد وشمار حتمی نہیں ہیں۔

سینیٹ کے اہم مقابلوں میں ورجینیا سے ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر نے برٹ میزوساوا کو شکست دے کر مسلسل چوتھی مدت حاصل کرلی، جبکہ جارجیا میں جان اوسوف بھی مائیک کولنز کو ہرا کر دوبارہ منتخب ہوگئے۔

ڈیلاویئر سے کرس کونز، نیو جرسی سے کوری بُکر، روڈ آئی لینڈ سے جیک ریڈ اور میساچوسٹس سے ایڈورڈ مارکی نے بھی اپنی نشستوں کا دفاع کیا۔ الینوائے سے جولیانا اسٹریٹن نے سینیٹ کی نشست جیت لی۔

ایوان نمائندگان میں فلوریڈا سے ڈیبی واسرمین شلٹز، الیگزینڈرو فراسٹ اور لوئس فرینکل، کینٹکی سے مورگن میک گاروی، جارجیا سے جیسمین کلارک، نیکیما ولیمز اور لوسی میک باتھ جبکہ رشیدہ طلیب نے مشی گن سے دوبارہ کامیابی حاصل کی۔

ری پبلکن امیدوار ہال راجرز اور جم شوارٹزل بھی اپنی نشستیں جیتنے میں کامیاب رہے۔

گورنرز کے انتخابات میں الینوائے کے جے بی پرٹزکر، میساچوسٹس کی مورا ہیلی، میری لینڈ کے ویس مور اور پنسلوانیا کے جوش شاپیرو دوبارہ منتخب ہوئے۔

فلوریڈا میں ری پبلکن بائرن ڈونلڈز نے کامیابی حاصل کرکے ریاست کے پہلے سیاہ فام گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا، جبکہ جارجیا میں ڈیموکریٹک امیدوار کیشا لانس باٹمز پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب ہوئیں۔

انتخابی نتائج کا سلسلہ جاری ہے اور کانگریس کے دونوں ایوانوں میں آئندہ جماعتی پوزیشن کا تعین مزید ووٹوں کی گنتی کے بعد ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت