ہم کسی کی بی ٹیم بن کرنہیں بیٹھے ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد

اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت میں غلط بیانی کرنے کے سنگین معاملے پر کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ممبر اسٹیٹ زمان وٹو کے خلاف توہینِ عدالت کیس میں اہم اور بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔
عدالت نے ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو پر توہینِ عدالت کیس میں باقاعدہ فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ جاری کردیا جب کہ ملزم کی جانب سے کی گئی غیر مشروط معافی کی فوری استدعا کو مسترد کردیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سی ڈی اے کے ممبر اسٹیٹ زمان وٹو کے خلاف عدالت میں غلط بیانی اور عدم پیشی سے متعلق توہینِ عدالت کی درخواست پر سماعت کی.
سماعت کے آغاز میں زمان وٹو کی جانب سے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے کیس کو ختم کرنے کی فوری استدعا کی گئی، تاہم چیف جسٹس نے اس استدعا کو نامنظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالت آئندہ سماعت پر ملزم کے خلاف فردِ جرم عائد کرے گی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ عدالتوں کی عزت اور وقار کو سنجیدہ نہیں لیتے.
یہاں پر یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ ہم کسی کی بی ٹیم بنے بیٹھے ہیں اور نہ ہی یہ سمجھا جائے کہ حکومت جو کچھ کہے گی ہم کہیں گے کہ ٹھیک ہے جی؟
جب کیس چیف جسٹس کی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر ہوتا ہے تو یہ سینئر کورٹ ہوتی ہے اور جب تک اس عدالت میں کیس کال نہ ہو اور مکمل نہ سن لیا جائے، فریقین کو عدالت میں ہی موجود رہنا چاہیے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ مجھے کسی کے ساتھ کوئی ذاتی عناد نہیں ہے اور نہ ہی میں کسی کے خلاف انتقامی کارروائی پر یقین رکھتا ہوں، لیکن جس دن یہ آرڈر پاس ہو رہا تھا، اس دن انہوں نے عذر پیش کیا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور یہاں یہ کہہ کر وہ دوسری عدالت میں پیش ہوگئے۔
اس دن کیا ہوا یا وہ آرڈر کیا تھا اس بات کو چھوڑ دیں، لیکن جس دن کے لیے یہ غلط بیانی اور آرڈر پاس ہوا، میں اس دن کے عمل کے لیے سزا سناو ¿ں گا، بعد ازاں کیس کی سماعت 12 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔
بشکریہ روزنامہ جسارت