سردیوں میں نزلہ، زکام اور کھانسی کے بار بار حملے کیوں ہوتے ہیں؟

سرد موسم کی آمد کے ساتھ ہی نزلہ، زکام، کھانسی، گلے میں خراش اور بخار جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ اس موسم میں بعض افراد ایک مرتبہ بیماری سے صحت یاب ہونے کے باوجود چند ہی دن بعد دوبارہ انہی علامات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ عام طور پر اس صورت حال کو سردی لگنے یا قوت مدافعت کی کمزوری سے جوڑا جاتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق موسم سرما میں بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات اور روزمرہ معمولات بھی ان بیماریوں کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سردیوں میں لوگ زیادہ وقت گھروں، دفاتر اور دیگر بند مقامات پر گزارتے ہیں، جہاں تازہ ہوا کی آمدورفت محدود ہونے کے باعث وائرس ایک شخص سے دوسرے تک آسانی سے منتقل ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہوا میں نمی کی کمی اور مختلف سانس کی بیماریوں کا سبب بننے والے وائرسز کی سرگرمی بھی انفیکشن کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔
بند کمروں میں قیام سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
موسم سرد ہونے پر لوگ ٹھنڈی ہوا سے بچنے کے لیے گھروں اور دفاتر کی کھڑکیاں اور دروازے بند رکھتے ہیں۔ اس عمل سے کمروں میں تازہ ہوا کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے اور اندر موجود ہوا کی تبدیلی کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔
ایسی صورت حال میں اگر کسی متاثرہ شخص کو کھانسی یا چھینک آئے یا وہ بات کرے تو اس کے منہ اور ناک سے خارج ہونے والے انتہائی باریک ذرات ہوا میں پھیل جاتے ہیں۔ مناسب ہواداری نہ ہونے کی صورت میں یہ ذرات کمرے کے اندر زیادہ دیر تک موجود رہ سکتے ہیں، جس سے وہاں موجود دوسرے افراد بھی وائرس کی زد میں آسکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سردیوں میں گھروں، تعلیمی اداروں اور دفاتر میں ایک شخص سے دوسرے تک نزلہ، زکام اور دیگر سانس کی بیماریوں کی منتقلی نسبتاً آسان ہوجاتی ہے۔
ہوا میں نمی کی کمی سانس کی نالی کے قدرتی دفاع کو متاثر کرتی ہے
سرد موسم میں ہوا کی خشکی بھی انسانی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ نمی کی مقدار کم ہونے سے ناک اور گلے کی اندرونی سطح خشک ہونے لگتی ہے، جس کے نتیجے میں ان حصوں کی قدرتی حفاظتی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔
دراصل ناک اور سانس کی نالی کے اندر ایک قدرتی حفاظتی نظام موجود ہوتا ہے، جو بلغم اور باریک ریشوں کی مدد سے جراثیم، گردوغبار اور دیگر نقصان دہ ذرات کو جسم میں داخل ہونے سے روکنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ جب یہ نظام خشکی سے متاثر ہوتا ہے تو وائرسز کے خلاف جسم کا ابتدائی دفاع کمزور پڑ سکتا ہے۔
اسی کیفیت کے باعث سردیوں میں ناک بند ہونے، گلے میں خراش، خشکی اور خشک کھانسی جیسی شکایات عام ہوجاتی ہیں۔
ایک مرتبہ صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ زکام کیوں ہوجاتا ہے؟
سردیوں کے دوران مختلف اقسام کے وائرس ایک ساتھ گردش کرتے رہتے ہیں، جن میں انفلوئنزا، آر ایس وی اور عام نزلہ زکام کا سبب بننے والے وائرس شامل ہیں۔ ان میں سے ہر وائرس جسم کو مختلف انداز میں متاثر کرسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی ایک وائرس سے صحت یاب ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دیگر تمام وائرسز کے خلاف بھی محفوظ ہوگیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص ایک قسم کے وائرس سے متاثر ہونے کے بعد صحت یاب ہوجائے تو وہ کچھ عرصے بعد کسی دوسری قسم کے وائرس کا شکار ہوسکتا ہے۔
اسی طرح عام نزلہ زکام کا سبب بننے والے وائرسز کی بھی متعدد اقسام موجود ہیں، جس کے باعث ایک ہی موسم میں بار بار انفیکشن ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افراد کو چند دن کے وقفے سے دوبارہ کھانسی، زکام اور گلے کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
روزمرہ اشیا کے ذریعے بھی جراثیم منتقل ہوسکتے ہیں
سردیوں میں سانس کی بیماریوں کے پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ ہاتھوں کی صفائی سے متعلق لاپروائی بھی ہے۔ روزمرہ استعمال کی مختلف اشیا، مثلاً دروازوں کے دستے، موبائل فون، میزیں اور دیگر مشترکہ سامان جراثیم کی منتقلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اگر کوئی شخص آلودہ سطح کو چھونے کے بعد اپنے ہاتھوں سے آنکھوں، ناک یا منہ کو چھوتا ہے تو بعض وائرسز جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔ اس طرح متاثرہ شخص کے علاوہ دوسرے افراد بھی انفیکشن کا شکار ہوسکتے ہیں۔
اس خطرے کو کم کرنے کے لیے صابن اور صاف پانی سے کم از کم 20 سیکنڈ تک ہاتھ دھونا ضروری ہے۔ خصوصاً کھانا کھانے سے پہلے، باہر سے گھر واپس آنے پر اور کھانسنے یا چھینکنے کے بعد ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
موسم سرما میں بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟
ماہرین صحت کے مطابق سردیوں میں سانس کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے روزمرہ معمولات میں چند بنیادی تبدیلیاں مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔ گھروں اور دفاتر میں موسم اور فضائی آلودگی کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب وقت کے لیے کھڑکیاں کھول کر تازہ ہوا کی آمدورفت یقینی بنانی چاہیے۔
اسی طرح زیادہ رش والی بند جگہوں پر ماسک کا استعمال بھی سانس کے ذریعے منتقل ہونے والے وائرسز سے بچاؤ میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔ جسم کی مجموعی صحت اور مدافعتی نظام کو بہتر رکھنے کے لیے مناسب نیند، متوازن غذا اور پانی کا مناسب استعمال بھی ضروری ہے۔
اس کے علاوہ موسمی انفلوئنزا سے تحفظ کے لیے فلو کی ویکسین لگوانے کے حوالے سے ڈاکٹر سے مشورہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ ویکسین انفلوئنزا کے شدید حملے اور اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے امکانات کم کرنے میں مدد دیتی ہے، تاہم یہ عام نزلہ زکام یا دیگر تمام سانس کے وائرسز سے مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتی۔
بار بار انفیکشن اور طویل علامات کو معمولی نہ سمجھیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو مسلسل یا بار بار سانس کی بیماریوں کا سامنا ہو، کھانسی اور دیگر علامات کئی ہفتوں تک برقرار رہیں یا بخار کے ساتھ غیر معمولی تھکاوٹ محسوس ہو تو اسے طبی معائنہ کروانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
خصوصاً سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد یا طبیعت اچانک بگڑنے کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ ایسی علامات کو معمول کا موسمی زکام سمجھ کر نظر انداز کرنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سردیوں میں نزلہ، زکام اور کھانسی کے واقعات میں اضافہ معمول کی بات ہے، تاہم صفائی کا خیال رکھنے، بند مقامات میں تازہ ہوا کی آمدورفت برقرار رکھنے، مناسب نیند لینے اور صحت مند غذائی عادات اپنانے سے ان بیماریوں کے پھیلاؤ کے امکانات کم کیے جاسکتے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت