ایل این جی کی قیمتوں میں 15.27 فیصد تک اضافہ، گیس مزید مہنگی ہونے کا خدشہ

اسلام آباد:اوگرا نے اکتوبر کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر کے دوران ایل این جی کی قیمت میں 15.27 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس سسٹم کے لیے ایل این جی کی قیمتوں میں فی ایم ایم بی ٹی یو 2 ڈالر سے زائد اضافہ ہوا ہے، جس سے گیس کے شعبے پر اخراجات کا دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں سوئی ناردرن گیس سسٹم کے لیے ایل این جی کی قیمت میں 2.13 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 17.32 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کر دی گئی ہے۔
اسی طرح سوئی سدرن گیس سسٹم کے لیے ایل این جی کی قیمت میں 2.17 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 16.39 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی ہے۔
اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق دونوں گیس کمپنیوں کے لیے قیمتوں میں اضافے کے بعد اکتوبر کے دوران ایل این جی کی درآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے اثرات گیس کے شعبے کے دیگر معاملات پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔
ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی، پیٹرول، اشیائے خورونوش اور گھریلو اخراجات میں مسلسل اضافے نے ماہانہ بجٹ بری طرح متاثر کر رکھا ہے، ایسے میں گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ عام گھرانوں کے لیے ایک نئی پریشانی بن سکتا ہے۔
شہریوں کے مطابق آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ بجلی اور گیس کے بلوں، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے اور روزمرہ ضروریات پر اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور ہر نئے اضافے کے ساتھ ضروریات زندگی محدود کرنے کی نوبت آ رہی ہے۔
صارفین کو خدشہ ہے کہ ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ بالواسطہ طور پر گیس اور بجلی کے نرخوں، صنعتی پیداواری لاگت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اگر توانائی کے اخراجات بڑھتے ہیں تو صنعتوں اور کاروباری اداروں کی پیداواری لاگت میں اضافے کے نتیجے میں عام صارفین کو بھی مہنگی اشیا کی صورت میں اس کا بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات عام صارفین تک منتقل ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ پہلے سے مہنگائی کے شکار خاندانوں پر مزید مالی دباؤ نہ پڑے۔
ایل این جی کی قیمتوں میں تازہ اضافے نے توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے اخراجات اور عوامی بجٹ پر پڑنے والے دباؤ کے حوالے سے ایک بار پھر تشویش پیدا کر دی ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت