پیر، 2 نومبر، 2026 · 23 جمادی الاول، 1448 ہجری

نظامِ شمسی میں سائنس دانوں کو ایک پراسرار جرمِ فلکی مل گیا

قومی خبریں

نظامِ شمسی کے دور دراز حصے میں ایک ایسے بڑے خلائی جسم کا سراغ ملا ہے جسے ممکنہ طور پر بونا سیارہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس کا قطر 370 سے 930 میل تک ہوسکتا ہے، جس کی بنیاد پر اسے اب تک دریافت ہونے والے بڑے بونے سیاروں کی فہرست میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

سائنس سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اس خلائی جسم کا قطر اگر زیادہ سے زیادہ 930 میل ثابت ہوا تو اس کی چوڑائی برطانیہ کی لمبائی سے بھی بڑھ جائے گی۔ فی الحال اسے عارضی نام 2026 ای ڈی 183 دیا گیا ہے، تاہم باضابطہ طور پر بونا سیارہ تسلیم کیے جانے کی صورت میں اسے یونانی نام سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔

ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اس دریافت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ تصدیق کے بعد یہ نظامِ شمسی کے ان چند معروف بونے سیاروں کے گروہ میں شامل ہوسکتا ہے جن میں سیرس، پلوٹو، ہاؤمیا، میک میک اور ایریس شامل ہیں۔

اس پراسرار خلائی جسم کا سراغ چلی میں 8800 فٹ بلند پہاڑ کی چوٹی پر نصب جدید دوربین ویرا سی روبن کی مدد سے حاصل کیا گیا۔ یہ دوربین خلا میں موجود اجسام کی نقل و حرکت کا مشاہدہ کرنے اور دور دراز اجرامِ فلکی کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ماہرِ فلکیات میتھیو ہولمین نے 2026 میں اس دوربین سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک جدید کمپیوٹر پروگرام استعمال کیا۔ یہ پروگرام اربوں متحرک خلائی اجسام کی نقل و حرکت کا جائزہ لے رہا تھا کہ اسی دوران اس کی توجہ 2026 ای ڈی 183 کی جانب مبذول ہوئی۔

اس طرح ابتدائی مشاہدات میں نظر آنے والے اس غیر معمولی جسم کی موجودگی سامنے آئی اور ماہرینِ فلکیات کو نظامِ شمسی میں ایک ممکنہ نئے بونے سیارے کی دریافت کا سراغ ملا۔ اس کی اصل جسامت اور بونے سیارے کی حیثیت کی حتمی تصدیق کے بعد ہی اس کی درجہ بندی اور نام کا فیصلہ کیا جاسکے گا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت