پیر، 2 نومبر، 2026 · 23 جمادی الاول، 1448 ہجری

اسرائیل نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کی تیاریاں مکمل کرلیں، عالمی میڈیا

قومی خبریں

تل ابیب: اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے ساتھ ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے پیش نظر اپنی دفاعی اور جارحانہ فوجی تیاریاں مکمل کرلی ہیں جبکہ اسرائیلی فضائیہ ممکنہ حملوں کے لیے عملی مشقیں بھی کررہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اسرائیلی فوجی قیادت نے جنگ کی صورت میں مختلف ممکنہ کارروائیوں کی تیاری شروع کردی ہے، ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔

اسرائیلی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فوجی تیاریاں اب صرف منصوبہ بندی اور کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی مشقوں کا مرحلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی فضائیہ کے درجنوں لڑاکا طیاروں نے شام اور عراق کی فضائی حدود سے ایران کی سرحدوں کی جانب پروازیں کیں۔ ان مشقوں کا مقصد ممکنہ حملوں کے لیے فضائی راستوں کی مشق اور جنگ کی صورت میں طیاروں کی نقل و حرکت کی تیاری کرنا تھا۔

رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اسرائیلی سیاسی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی سیاسی اور فوجی قیادت اپنی جانب سے ایران کے خلاف نئی جنگ شروع کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں کرسکتی، کیونکہ اس معاملے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

ذرائع کے مطابق فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ امریکی صدر ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کی کوششیں جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں یا اسرائیل کے ساتھ مل کر دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے منصوبے پیش کیے ہیں، ان منصوبوں کی موجودگی کے باوجود ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران امریکی فوج کے 10 ٹرانسپورٹ طیارے اسرائیلی فضائی اڈوں پر پہنچے ہیں۔ یہ طیارے خطے میں فوجی سازوسامان اور دیگر ضروری وسائل کی منتقلی کے لیے جاری فضائی نقل و حمل کی سرگرمیوں کا حصہ تھے۔ ان طیاروں کی آمد کو خطے میں ممکنہ فوجی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، ان کے ذریعے پہنچائے جانے والے سازوسامان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

اسرائیلی سیاسی ذرائع کے مطابق امریکا کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ اس کے تزویراتی مقاصد کا واضح نہ ہونا ہے، ایران کی جوہری تنصیبات، میزائل نظام اور فوجی صلاحیتوں کو فضائی حملوں کے ذریعے نقصان پہنچانا ممکن ہوسکتا ہے لیکن اس بات کی ضمانت نہیں کہ ایسی کارروائی سے ایرانی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا یا اس کی پالیسیوں میں کوئی بنیادی تبدیلی آجائے گی۔

رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع ہوئی اور لبنان کی تنظیم حزب اللہ بھی اس تنازع میں شامل ہوگئی تو لڑائی کا دائرہ لبنان تک پھیل سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اسرائیل کو ایک سے زیادہ محاذوں پر طویل جنگ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جس سے اس کے دفاعی نظام پر دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق طویل جنگ کی صورت میں اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام اور دشمن کے میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخیرے پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس طرح ایران کے خلاف ممکنہ نئی جنگ صرف فضائی حملوں تک محدود رہنے کے بجائے وسیع علاقائی تنازع کی شکل اختیار کرسکتی ہے، اسرائیلی اخبار کی یہ رپورٹ مختلف ذرائع کے دعوؤں پر مبنی ہے اور امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف نئی جنگ شروع کرنے کے کسی حتمی فیصلے کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت