پیر، 2 نومبر، 2026 · 23 جمادی الاول، 1448 ہجری

20 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ، 25 ارب روپے کے ٹرانسفارمیشن منصوبے کا حساب دیا جائے، منعم ظفر

قومی خبریں
20 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ، 25 ارب روپے کے ٹرانسفارمیشن منصوبے کا حساب دیا جائے، منعم ظفر

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ لیاری کے عوام کو 18 سے 20 گھنٹے کی بدترین اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے جبکہ بعض علاقوں میں 24 گھنٹوں کے دوران صرف 4 سے 6 گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ حکومت فوری طور پر طویل لوڈشیڈنگ ختم کرے، کے الیکٹرک کا فارنزک آڈٹ کرائے اور لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے لیے مختص 25 ارب 28 کروڑ روپے کے استعمال کی تفصیلات عوام کے سامنے لائے۔

آٹھ چوک، لیاری ٹاؤن میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے امیر ضلع جنوبی سفیان دلاور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لیاری کے عوام بجلی، پانی اور بنیادی شہری سہولتوں سے محروم ہیں۔ طویل لوڈشیڈنگ نے محنت کش طبقے کی زندگی اجیرن کردی ہے جبکہ بلدیاتی انفرا اسٹرکچر کی تباہ حالی نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لیاری کے عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرکے انہیں باعزت زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے نام پر 25 ارب 28 کروڑ روپے کے منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن آج بھی علاقے کی حالت میں کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آتی۔ سندھ حکومت بتائے کہ یہ خطیر رقم کہاں خرچ ہوئی اور اس منصوبے کے تحت لیاری میں کون سے ترقیاتی کام مکمل کیے گئے؟ کراچی کے عوام کو گریٹر پلان کے نام پر وعدے اور اعلانات دیے گئے، اسی طرح لیاری کے عوام بھی بنیادی سہولتوں کے انتظار میں ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے حیدرآباد میں حال ہی میں تعمیر ہونے والی شاہراہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سڑک کے درمیان بجلی کے کھمبے موجود ہونے کے باعث اسے کھمبوں والی شاہراہ کہا گیا اور سندھ حکومت کے ترجمان کو اس پر معذرت بھی کرنا پڑی، لیکن وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اسے اپنے گریٹر پلان کا حصہ قرار دیا، اگر آج لیاری کی سڑکیں اور شہری انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہیں تو کیا یہ بھی سندھ حکومت کے گریٹر پلان کا حصہ ہے؟

انہوں نے کہا کہ وفاق میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) حکومت کا حصہ ہیں، جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی گزشتہ 18 سال سے اقتدار میں ہے۔ اس کے باوجود کراچی اور بالخصوص لیاری کے عوام بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کے حصول کے لیے پریشان ہیں۔ حکمران اقتدار میں شریک ہیں، لیکن شہریوں کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ عام انتخابات سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی نے اقتدار میں آنے کے بعد 300 یونٹ بجلی مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے 200 یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا۔ آج لیاری کے عوام پوچھ رہے ہیں کہ ان وعدوں پر کتنا عمل ہوا اور انہیں کب ریلیف ملے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ کراچی ملکی معیشت میں 96 فیصد حصہ ڈالتا ہے، وفاق کو 92 فیصد ٹیکس دیتا ہے، 60 فیصد ریونیو فراہم کرتا ہے اور ملک کی 24 فیصد برآمدات اسی شہر سے ہوتی ہیں، لیکن اس کے باوجود یہاں کے شہری بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

انہوں نے کے الیکٹرک کی جانب سے علاقوں میں اجتماعی لوڈشیڈنگ کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی علاقے میں بعض افراد بجلی چوری کرتے ہیں یا بل ادا نہیں کرتے تو اس کی سزا پورے علاقے کے شہریوں کو نہیں دی جاسکتی۔ بڑی تعداد میں صارفین باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں گھنٹوں بجلی سے محروم رکھنا ناانصافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی چوری اور عدم ادائیگی کے خلاف کارروائی متعلقہ افراد تک محدود رکھی جائے اور بل ادا کرنے والے صارفین کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے دعویٰ کیا کہ رواں سال کے الیکٹرک کو 164 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے جبکہ نجکاری کے بعد سے ادارہ اب تک 1,500 ارب روپے وصول کرچکا ہے،نجکاری کا بنیادی مقصد بجلی کی فراہمی بہتر بنانا اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ تھا، لیکن آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ جاری ہے، اتنی بڑی مالی معاونت اور وصولیوں کے باوجود شہریوں کو بجلی کی مناسب فراہمی کیوں یقینی نہیں بنائی جاسکی؟ ان کا مطالبہ تھا کہ کے الیکٹرک کی کارکردگی، مالی معاملات اور بجلی کی فراہمی کا مکمل فارنزک آڈٹ کرایا جائے اور ادارے کو جواب دہ بنایا جائے۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ لیاری محنت کشوں کا علاقہ ہے، جہاں کے لوگ دن بھر محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ ماضی میں لیاری کی شناخت کھیلوں اور کھیلوں کے میدانوں سے ہوتی تھی لیکن اب یہ علاقہ طویل لوڈشیڈنگ، منشیات فروشی، مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور تباہ حال انفرا اسٹرکچر جیسے مسائل سے دوچار ہے، بجلی کی بندش کے باعث گھروں میں خواتین، بزرگوں اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بجلی نہ ہونے سے پانی کی موٹریں بھی نہیں چل سکتیں، جس کے باعث شہریوں کو بجلی کے ساتھ پانی کی قلت کا بھی سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی نجکاری کے وقت بھی ایم کیو ایم حکومت کی اتحادی تھی۔ 2008ء میں ادارے کے اکثریتی حصص فروخت کیے گئے تو وفاق میں آصف علی زرداری صدر، سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت اور قائم علی شاہ وزیراعلیٰ تھے جبکہ ایم کیو ایم بھی حکومتی اتحاد میں شامل تھی۔ ان کے مطابق اس وقت کیے گئے فیصلوں کے اثرات آج کراچی کے شہری بھگت رہے ہیں لیکن بجلی کے بحران کے حل کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔

بشکریہ روزنامہ جسارت