پیر، 2 نومبر، 2026 · 23 جمادی الاول، 1448 ہجری

بوگاٹی کمپنی کے سربراہ کی کروڑوں ڈالر مالیت کی گاڑی چوری، خود تعاقب کرکے واپس حاصل کرلی

قومی خبریں

زاگرِب: گاڑی میں چابی چھوڑ کر اسے غیر محفوظ حالت میں کھڑا کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے، اس کی ایک دلچسپ مثال گاڑیاں تیار کرنے والی معروف کمپنی بوگاٹی ریماک کے چیف ایگزیکٹو میٹ ریماک کے ساتھ پیش آئی، جن کی کروڑوں ڈالر مالیت کی لگژری گاڑی بوگاٹی شیرون کروشیا میں کمپنی کی عمارت کے باہر سے چوری ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گاڑی چوری ہونے کے بعد مالک نے خود دوسری لگژری گاڑی میں بیٹھ کر چور کا تعاقب شروع کردیا۔

میٹ ریماک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی عادت تھی کہ وہ اپنی گاڑیاں کھلی چھوڑ دیتے تھے اور بعض اوقات چابی بھی گاڑی کے اندر ہی رہنے دیتے تھے۔ انہیں شاید یہ گمان تھا کہ کوئی شخص اتنی مہنگی گاڑی چوری کرنے کی ہمت نہیں کرے گا، ایک چور نے ان کا یہ اندازہ غلط ثابت کردیا۔

واقعے کے مطابق کمپنی کے ایک ملازم نے میٹ ریماک کی بوگاٹی شیرون کو عمارت کے باہر سے تیزی سے جاتے ہوئے دیکھا تو فوری طور پر دیگر عملے کو اطلاع دی۔ اس کے بعد ملازمین نے ایک گروپ چیٹ بنائی تاکہ تصدیق کی جاسکے کہ گاڑی کسی مجاز شخص نے تو استعمال نہیں کی۔ جلد ہی واضح ہوگیا کہ گاڑی چوری ہوچکی ہے۔

میٹ ریماک نے پولیس کو اطلاع دینے کے ساتھ خود بھی گاڑی کی تلاش شروع کردی۔ خوش قسمتی سے ان کی ایک دوسری لگژری گاڑی قریب ہی موجود تھی اور اس میں کافی ایندھن بھی تھا۔ وہ اس گاڑی میں بیٹھ کر چوری شدہ بوگاٹی کے تعاقب میں روانہ ہوگئے۔

چوری ہونے والی بوگاٹی میں لائیو ٹیلی میٹری کا نظام نصب تھا، جس کے ذریعے میٹ ریماک گاڑی کی موجودہ لوکیشن، ایندھن کی مقدار اور دیگر معلومات حقیقی وقت میں دیکھ سکتے تھے، وہ اس نظام کے ذریعے گاڑی کو روکنے یا اس کا کنٹرول حاصل کرنے کے قابل نہیں تھے۔

تعاقب کا آغاز گاڑی چوری ہونے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد ہوا۔ چور گاڑی کو کروشیا سے پڑوسی ملک سلوانیا کی جانب لے گیا۔ میٹ ریماک کو ابتدا میں امید تھی کہ پولیس سرحد عبور کرنے سے پہلے ہی چور کو گرفتار کرلے گی، لیکن ایسا نہ ہوسکا اور گاڑی سلوانیا سے ہوتی ہوئی آسٹریا پہنچ گئی۔

میٹ ریماک کے مطابق آسٹریا پہنچنے تک گاڑی میں ایندھن کم رہ گیا تھا اور انہیں توقع تھی کہ چور کسی پٹرول پمپ پر رک کر ایندھن حاصل کرے گا، چور نے معمول کے مطابق ایندھن بھروانے کے بجائے پٹرول سے بھرا آدھا ٹینک گاڑی میں ڈال لیا۔

بالآخر آسٹرین پولیس نے گاڑی روک کر ملزم کو گرفتار کرلیا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ میٹ ریماک نے چور کے خلاف قانونی کارروائی آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا اور اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اسے گھر تک چھوڑنے کی پیشکش بھی کی، پولیس نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔

اگرچہ میٹ ریماک نے ملزم کے خلاف معاملہ آگے نہ بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ چوری کا مقدمہ خودبخود ختم ہوگیا۔ اتنی قیمتی گاڑی کی چوری ایک سنگین معاملہ ہے اور اس پر قانونی کارروائی کا فیصلہ متعلقہ حکام کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

اس واقعے کے بعد میٹ ریماک نے اپنی گاڑیوں کی حفاظت کے حوالے سے اپنی پرانی عادت تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اب وہ گاڑی کھڑی کرتے وقت اس کی چابی اندر چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت