اتوار، 1 نومبر، 2026 · 22 جمادی الاول، 1448 ہجری

روزانہ مونگ پھلی کھانے سے عمر رسیدہ افراد کے دماغی افعال بہتر ہونے کا امکان

قومی خبریں

ایمسٹرڈیم: عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی صحت اور یادداشت کو بہتر رکھنے کے لیے روزانہ مونگ پھلی کا استعمال مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ نیدرلینڈز میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ باقاعدگی سے مونگ پھلی کھانے سے دماغ کے بعض حصوں میں انسولین کے ردعمل میں بہتری آسکتی ہے۔

نیدرلینڈز کے ماستریخت یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں 60 سے 75 سال کی عمر کے 31 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا۔ شرکا کو 16 ہفتوں تک روزانہ 60 گرام مونگ پھلی کھانے کی ہدایت کی گئی جبکہ اس دوران ان کی صحت اور دماغی سرگرمیوں کا جائزہ بھی لیا جاتا رہا۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ روزانہ مونگ پھلی کھانے والے افراد کے دماغ کے دائیں حصے کے بعض خطوں میں انسولین کے ردعمل میں بہتری دیکھی گئی۔ محققین کے مطابق یہ تبدیلی دماغی صحت کے حوالے سے اہم ہوسکتی ہے کیونکہ انسولین صرف خون میں شکر کی مقدار کو قابو میں رکھنے تک محدود نہیں بلکہ دماغ کے معمول کے افعال میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انسولین کو عموماً ایسا ہارمون سمجھا جاتا ہے جو خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے، دماغ میں بھی اس کے متعدد اہم افعال ہیں۔ یہ دماغی خلیوں کے درمیان رابطے، توانائی کے استعمال اور یادداشت سے متعلق عمل میں کردار ادا کرتا ہے۔ دماغ کے بعض حصوں میں انسولین کے ردعمل میں خرابی کو عمر بڑھنے کے ساتھ پیدا ہونے والی دماغی تبدیلیوں سے بھی جوڑا جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق مونگ پھلی میں صحت بخش چکنائی، پروٹین، وٹامنز اور مختلف معدنی اجزا پائے جاتے ہیں، جو مجموعی صحت کے لیے مفید ہیں۔ اس میں موجود غذائی اجزا جسم کو توانائی فراہم کرنے کے ساتھ دل اور خون کی شریانوں کی صحت برقرار رکھنے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔

محققین کے سامنے آنے والے نتائج کو اس بات کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا کہ مونگ پھلی کھانے سے یادداشت لازماً بہتر ہوتی ہے یا عمر کے ساتھ دماغی کمزوری کا خطرہ ختم ہوجاتا ہے۔ تحقیق میں شرکا کی تعداد بھی محدود تھی، اس لیے ان نتائج کی مزید بڑے پیمانے پر تحقیق کے ذریعے تصدیق ضروری ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق دماغی صحت برقرار رکھنے کے لیے متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور ذہنی طور پر متحرک رہنا بھی اہم ہے۔ مونگ پھلی کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنایا جاسکتا ہے، اس کی مقدار کا تعین مجموعی غذائی ضروریات اور صحت کی صورت حال کو مدنظر رکھ کر کرنا چاہیے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت