ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026 · 21 جمادی الاول، 1448 ہجری

نیتن یاہو کا ٹرمپ پر ایران کے خلاف مشترکہ فوجی حملے کے لیے دباؤ بڑھ گیا

قومی خبریں

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران کو نشانہ بنائیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایران سے نمٹنے کی حکمت عملی پر اختلافات موجود ہیں۔ انتظامیہ کے کچھ عہدیدار تہران کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کے حامی ہیں، تاہم دوسرے حکام فوجی کارروائی کے ذریعے دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی ٹی وی چینل 15 نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران پر حملے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی عسکری حکام ممکنہ جنگ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس دوران شمالی محاذ پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

اسرائیلی فوج کو خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ شروع ہونے کی صورت میں لبنان کی تنظیم حزب اللہ بھی محاذ کھول سکتی ہے۔ ایسی صورت حال میں اسرائیل کو بیک وقت کئی سمتوں سے حملوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اسی خطرے کے پیش نظر اسرائیلی فوج شمالی سرحد پر ممکنہ ڈرون اور میزائل حملوں سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ رپورٹ میں بیک وقت مختلف محاذوں پر دفاعی ضروریات پوری کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

تاہم امریکا یا اسرائیل نے ایران کے خلاف کسی مشترکہ فوجی کارروائی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ فی الحال حملے کی تیاریوں اور مجوزہ وقت سے متعلق اطلاعات میڈیا رپورٹس اور متعلقہ ذرائع کے دعووں پر مبنی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت