منگل، 3 نومبر، 2026 · 24 جمادی الاول، 1448 ہجری

ایران کے سرکاری ٹی وی پر شہریوں کے لیے جوہری حملے اور تابکاری سے بچاؤ کی ہدایات کیوں نشر ہوئیں؟

علاقائی
ایران کے سرکاری ٹی وی پر شہریوں کے لیے جوہری حملے اور تابکاری سے بچاؤ کی ہدایات کیوں نشر ہوئیں؟

ایران میں حکام نے جوہری حملے کی صورت میں اختیار کیے جانے والے ہنگامی اقدامات کی ہدایات جاری کی ہیں۔

یہ ہدایات ایک ایسے وقت میں جاری کی گئیں کہ جب امریکہ کی جانب سے پیر کی شب ایرانی جزیرہ قشم پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کوہِ کلنگ سمیت متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ امریکی میڈیا میں ایسی رپورٹس بھی گردش کر رہی ہیں کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کی جانب سے مبینہ طور پر ایران پر دوبارہ حملے کے لیے امریکی صدر پر دباؤ ڈالا گیا ہے۔

منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو ٹیلی فونک انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے ایران پر حملے کیے ہیں۔ اس سے قبل آبنائے ہرمز میں واقع جزیرے قشم کو نشانہ بنانے کی کارروائی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران نے طیارہ شکن نظام کی ایک تنصیب بنائی تھی اور جیسے ہی یہ مکمل ہوئی، ہم نے گذشتہ رات اسے کامیابی سے نشانہ بنایا۔‘ انھوں نے اس کارروائی کو ’محدود حملہ‘ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ لڑائی کسی کے مفاد میں نہیں ہو گی۔ پزشکیان نے حکومتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اس جنگ سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا۔‘ انھوں نے کہا کہ تنازع کو ’مذاکرات کے ذریعے‘ حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد امریکی اثاثوں کو ایرانی حملوں سے محفوظ رکھنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محدود کارروائی تھی، ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ نہیں۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق قشم کے قریب بندر لنگہ شہر میں بھی سمندر کی سمت سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

اس سے قبل گذشتہ روز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایک بار پھر کہا کہ امریکہ کو ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک سمجھے جانے والے مقام کوہِ کلنگ کو نشانہ بنانا پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ وہ ایسے حملے کو ’کوئی بڑا معاملہ‘ نہیں سمجھتے اور یہ کارروائی ’ایک گھنٹے کے اندر‘ انجام دی جا سکتی ہے۔

دریں اثنا امریکی ذرائع ابلاغ میں ایسی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو ایران پر جوہری حملے کے لیے امریکی صدر پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

امریکی سیاسی تجزیہ کار ٹکر کارلسن، جو کہ کسی زمانے میں صدر ٹرمپ کے قریبی سمجھے جاتے تھے، نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو امریکی صدر پر ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر زور دے رہے ہیں اور اس حملے کا ممکنہ نشانہ کوہِ کلنگ ہو سکتا ہے۔

تاہم ان دعوؤں پر اسرائیلی حکام نے تبصرہ نہیں کیا ہے۔

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے اصفہان کے ہلالِ احمر سوسائٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ابراہیم عادل زادہ کا انٹرویو شائع کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جوہری حملے کی صورت میں کیا ہنگامی اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں۔

ابراہیم عادل زادہ نے حکام کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات پر توجہ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے ’اگر کسی بھی جوہری حادثے کے بعد عمارت کے اندر رہنے کی ہدایت جاری کی جائے تو دروازے اور کھڑکیاں بند رکھنی چاہییں، اور ایسے وینٹیلیشن سسٹمز بند کر دینے چاہییں جو باہر کی ہوا کو اندر لاتے ہوں۔‘

انھوں نے مشورہ دیا کہ اگر تہہ خانے یا عمارت کے وسطی حصے میں واقع کسی ایسے کمرے تک رسائی ممکن ہو جو کہ کھڑکیوں سے دور ہو تو وہ پناہ لینے کے لیے موزوں جگہ ہو سکتی ہے۔

ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شدید دھماکہ ہو تو اس کی جانب براہِ راست نہ دیکھیں اور اگر ممکن ہو تو ابتدائی دھماکوں کی لہر گزرنے تک کسی مناسب رکاوٹ کے پیچھے اور زمین کے قریب رہنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ تابکاری کے اخراج کی صورت میں سب سے اہم چیز تابکاری کے اثرات کو عمارت کے اندر منتقل ہونے سے روکنا ہے۔

ابراہیم عادل زادہ کے مطابق جن لوگوں کو شبہ ہو کہ وہ تابکاری سے آلودہ گردوغبار کی زد میں ہیں، انھیں چاہیے کہ وہ اپنے چہروں کو ہاتھ لگائے بغیر احتیاط سے اپنے اوپری کپڑے اتاریں، انھیں ایک بند تھیلے میں ڈال کر دوسروں سے دور رکھیں۔ ’اسی طرح جلد اور بالوں کو نیم گرم پانی اور صابن سے دھونا بھی تابکاری کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے کسی واقعے کی صورت میں لوگوں کو عمارت کے اندر ہی رہنا چاہیے۔

’اگر انخلا ضروری قرار دیا جائے تو امدادی اداروں کی ہدایات اور مقررہ راستوں پر عمل کرنا چاہیے۔‘

ہوا کے ذریعے تابکار مواد کی منتقلی کے امکان کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’دھماکے کے مقام سے دور رہنے والے افراد کو بھی سرکاری انتباہات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔‘

ابراہیم عادل زادہ کا کہنا ہے کہ ’اگر انخلا کا حکم جاری کیا جاتا ہے تو لوگوں کو حکام کی جانب سے اعلان کردہ راستوں کا ہی انتخاب کرنا چاہیے۔

'اگر گاڑی میں سفر کر رہے ہوں تو کھڑکیاں اور اندر ہوا آنے کے راستے بند رکھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وینٹیلیشن سسٹم کو اندرونی گردش (انٹرنل سرکولیشن) پر رکھنے سے باہر کی ہوا کے اندر آنے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح گرد و غبار میں منہ اور ناک کو کپڑے یا لباس کے کسی حصے سے ڈھانپنے سے ذرات کو سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونے کا امکان کم کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اصفہان پری ہاسپٹل ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے بھی اس حوالے سے تعلیمی ویڈیو جاری کی ہے جس میں جوہری دھماکے کی صورت میں اختیار کی جانے والی ضروری احتیاطی تدابیر اور تابکار آلودگی کے خطرات کم کرنے کے طریقوں کی وضاحت کی گئی ہے۔

ان نکات کا حوالہ دیتے ہوئے عباس عابدی کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالات میں آیوڈین کی گولیاں خود سے استعمال کرنے سے گریز کریں، محفوظ عمارتوں میں پناہ لیں، آلودگی کا خاتمہ (ڈی کنٹامینیشن) اور سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی اطلاعات پر عمل کرنا ضروری ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بعض مخصوص حالات میں آیوڈین تھائیرائیڈ غدود میں تابکار آیوڈین کے جذب ہونے کے عمل کو کم کر سکتی ہے، لیکن یہ دیگر تابکار مادوں یا دھماکے سے پیدا ہونے والی شعاعوں سے تحفظ فراہم نہیں کرتی۔

’اس لیے اس دوا کا استعمال صرف اسی صورت میں کیا جانا چاہیے جب صحت کے حکام اس کا مشورہ دیں اور اسے عمر، صحت اور آلودگی کی نوعیت کو مدنظر رکھ کر استعمال کیا جائے۔

’صرف جوہری حادثے کے امکان کی بنیاد پر احتیاطاً یا خود سے آیوڈین کی گولیاں استعمال کرنا مناسب نہیں۔‘

ویڈیو میں دوا ’پروشین بلیو‘ کے استعمال کے حوالے سے بھی بات کی گئی ہے۔ عابدی کا کہنا ہے کہ ’تابکار سیزیم سے متاثر ہونے کے بعض معاملات میں یہ دوا ڈاکٹر کی تشخیص اور تجویز پر مفید ثابت ہو سکتی ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ دوا ’آیوڈین کی گولیوں کا متبادل نہیں ہے۔‘

BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو