اتوار، 1 نومبر، 2026 · 22 جمادی الاول، 1448 ہجری

والد کی وفات، بیٹے کی کینیڈا سے واپسی اور خاندان کے تین افراد کی خودکشی: ’کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا کہ ایسا ہو سکتا ہے‘

علاقائی
والد کی وفات، بیٹے کی کینیڈا سے واپسی اور خاندان کے تین افراد کی خودکشی: ’کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا کہ ایسا ہو سکتا ہے‘

انتباہ: اس خبر میں شامل تفصیلات بعض قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

انڈین ریاست گجرات کے شہر وڈودرا کے علاقے چار دروازہ میں ایک ہی خاندان کے تین افراد کی پراسرار انداز میں ہلاکت کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں ایک خاندان کے تین افراد نے مبینہ طور پر اجتماعی خودکشی کر لی ہے۔

یہاں واقع ایک بند گھر سے ماں، بیٹے اور بیٹی کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

بی بی سی گجراتی کے نامہ نگار ہاردک کے مطابق 50 سالہ آرتی بین سونی، ان کے 23 سالہ بیٹے نیل کنٹھ سونی اور 20 سالہ بیٹی جینی سونی گذشتہ دو روز سے گھر سے باہر نہیں دیکھے گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ گھر مسلسل اندر سے بند رہنے پر پڑوسیوں اور رشتہ داروں کو تشویش ہوئی۔

مقامی افراد نے اس بارے میں خاندان کے دیگر افراد کو اطلاع دی، جس کے بعد رشتہ داروں نے پولیس کنٹرول روم سے رابطہ کیا اور یوں یہ واقعہ سامنے آیا۔

پولیس اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ خاندان کے ان تین افراد نے یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا؟

اس خاندان کے سربراہ چیتن بھائی سونی تقریباً ایک سال قبل دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے تھے۔

والد کی وفات کے بعد ان کے بیٹے نیل کنٹھ سونی، جو کینیڈا میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر وڈودرا واپس آ گئے۔

یہ خاندان اولڈ پادرا روڈ پر آیورویدک ادویات کا کاروبار چلاتا تھا اور مقامی طور پر مالی طور پر مستحکم سمجھا جاتا تھا۔ تاہم بظاہر خوشحال نظر آنے والے اس خاندان کے تین افراد نے ایسا انتہائی قدم کیوں اٹھایا، اس کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا خاندان کو کسی گھریلو، مالی یا دیگر مسائل کا سامنا تھا، لیکن فی الحال ان اموات کے پس منظر کے بارے حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔

اس واقعے پر خاندان کے دیگر افراد بہت صدمے کا شکار نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں اب تک یقین نہیں آ رہا کہ یہ تینوں ایسا کوئی قدم اٹھا سکتے تھے۔

ان کے مطابق چیتن بھائی سونی کی وفات کے بعد بھی خاندان نے حالات کا حوصلے سے مقابلہ کیا تھا اور بظاہر معمول کی زندگی گزار رہا تھا۔

رشتہ داروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھیں کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ خاندان کو کسی سنگین مالی پریشانی یا کسی بڑے مسئلے کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے یہ واقعہ انھیں مزید حیران اور غم زدہ کر رہا ہے۔

پولیس واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آخر کن حالات میں خاندان کے تین افراد کی جانیں گئیں۔

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

چیتن بھائی سونی کے رشتہ دار اور کاروباری شراکت دار کیتن شاہ نے بتایا کہ جب انھیں اطلاع ملی کہ گھر کے افراد دروازہ نہیں کھول رہے تو وہ فوراً وہاں پہنچ گئے۔

انھوں نے کہا کہ ’میرا سونے اور چاندی کا کاروبار ہے اور اسی مقصد کے لیے ہم نے ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بھی قائم کر رکھی ہے۔ اس کمپنی میں میرے خاندان کے افراد کے ساتھ نیل کنٹھ سونی، آرتی بین سونی اور ان کی بیٹی جینی سونی بھی شراکت دار تھے۔‘

کیتن شاہ کے مطابق دونوں خاندانوں کے درمیان نہ صرف کاروباری تعلق تھا بلکہ برسوں سے قریبی روابط بھی تھے۔

انھوں نے کہا کہ کاروبار معمول کے مطابق چل رہا تھا اور انھیں کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ خاندان کو مالی مشکلات یا کاروباری بحران کا سامنا ہے۔

ان کے بقول جب وہ دکان سے گھر پہنچے تو گھر کا دروازہ بند تھا اور فون کا جواب بھی کوئی نہیں دے رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’جب میں نے دروازہ کھولا تو اندر کا منظر دیکھ کر صدمے میں آ گیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ گذشتہ 12 برس سے اس خاندان کو جانتے تھے اور آیورویدک ہسپتال کے کاروبار میں ان کے شراکت دار بھی تھے۔

کیتن شاہ کا دعویٰ ہے کہ ’کاروبار یا مالی لین دین کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ کاروبار میں سرمایہ کاری ہماری تھی، جبکہ اسے چلانے کی ذمہ داری ان کی تھی۔ ہم نے کبھی ان سے حساب کتاب کا مطالبہ نہیں کیا۔‘

وڈودرا کے ڈی سی پی اینڈریو میکوان کے مطابق تینوں لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں پوسٹ مارٹم کے ذریعے موت کی درست وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’لاشوں کو ہسپتال بھیج دیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔‘

پولیس فی الحال جائے وقوع کا تفصیلی معائنہ کر رہی ہے اور واقعے کے پس منظر کو سمجھنے کے لیےعلاقہ مکینوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

اینڈریو میکوان کے مطابق ’اس معاملے میں قانونی کارروائی کے لیے درخواست دائر کی جائے گی اور تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے گا۔‘

پولیس کے لیے فی الحال ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ خاندان کے ان تین افراد نے خودکشی کب کی۔ حکام تاحال یہ تعین نہیں کر سکے ہیں کہ یہ واقعہ کتنے روز قبل پیش آیا تھا۔

تفتیش کار پوسٹ مارٹم رپورٹ، فارنزک شواہد اور موقع سے ملنے والی دیگر معلومات کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اموات کب ہوئیں اور ان کے پیچھے کیا عوامل کارفرما تھے۔

مرنے والوں کے رشتہ دار ہتیش بھائی سونی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ان کے لیے انتہائی صدمے کا باعث ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ یہ ہمارے لیے بہت افسوسناک واقعہ ہے۔‘

ہتیش بھائی سونی کے مطابق حال ہی میں انھیں اطلاع ملی تھی کہ نیل کنٹھ سونی نے ایک فلیٹ کرائے پر لیا تھا اور وہاں منتقل ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

تاہم انھوں نے اس تاثر سے اتفاق نہیں کیا کہ اس واقعے کے پیچھے مالی مشکلات کارفرما ہو سکتی ہیں۔

’ہمیں نہیں لگتا کہ اس کی وجہ مالی مسائل تھے، کیونکہ خاندان کے دیگر رشتہ دار اور بھائی مالی طور پر مستحکم ہیں۔‘

ان کے مطابق والد چیتن بھائی سونی کی تقریباً ایک سال قبل وفات کے بعد ان کے بیٹے نیل کنٹھ سونی کینیڈا سے واپس وڈودرا آ گئے تھے اور وہیں رہائش اختیار کر لی تھی۔

بشکریہ بی بی سی اردو