اتوار، 1 نومبر، 2026 · 22 جمادی الاول، 1448 ہجری

سکول میں 8 سالہ بچے کا 6 سالہ بچی پر تشدد، اساتذہ اور عملے کے خلاف مقدمہ درج: ’ایک بچہ اتنا سفاک تشدد کیسے کرسکتا ہے؟‘

علاقائی
سکول میں 8 سالہ بچے کا 6 سالہ بچی پر تشدد، اساتذہ اور عملے کے خلاف مقدمہ درج: ’ایک بچہ اتنا سفاک تشدد کیسے کرسکتا ہے؟‘

انتباہ: اس خبر میں دی گئی بعض معلومات پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

ہریانہ کے شہر پنچکولا کے ایک سکول میں کلاس روم کے اندر 6 سالہ بچی کے ساتھ 8 سالہ بچے کی مبینہ مارپیٹ کے معاملے میں پولیس نے سکول کے پرنسپل سمیت تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

پولیس کی درج کردہ ایف آئی آر کے مطابق یہ واقعہ 28 اکتوبر 2026 کو پنچکولا کے ایک سکول میں پیش آیا تھا۔

پولیس نے سنیچر کے روز اس معاملے میں جووینائل جسٹس ایکٹ 2015 کی دفعہ 75 اور بی این ایس کی دفعہ 125(بی) کے تحت مقدمہ درج کیا۔

جن تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، ان میں سکول کے پرنسپل، کلاس انچارج اور چوکیدار شامل ہیں۔

پولیس کی درج کردہ ایف آئی آر کے مطابق پنچکولا کے ایک سکول میں 28 اکتوبر 2026 کو 6 سالہ طالبہ پر حملہ کیا گیا۔

سکول میں تیسری جماعت میں پڑھنے والے ایک 8 سالہ طالب علم نے مبینہ طور پر سکول کی عمارت کی پہلی منزل پر واقع ایک کمرے میں بچی کے ساتھ مارپیٹ کی۔

اس واقعے میں بچی شدید زخمی ہو گئی۔

شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ یہ واقعہ سکول انتظامیہ، پرنسپل، کلاس ٹیچر، دیگر عملے اور سیکیورٹی اہلکاروں کی غفلت کے باعث پیش آیا۔

شکایت کنندہ نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ سکول کا وقت ختم ہونے کے باوجود زخمی بچی تقریباً دو گھنٹے تک اسی کمرے میں پڑی رہی۔

بچی کے والد نے بی بی سی نیوز پنجابی کو بتایا: ’28 اکتوبر کو سکول کی چھٹی ہونے کے بعد بھی جب بچی نہیں ملی تو ہم اسے سکول کے اندر تلاش کرنے گئے۔ وہاں کسی کو معلوم نہیں تھا کہ بچی کہاں ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا ’پھر ایک چھوٹے بچے نے مجھے بتایا کہ وہ اوپر ایک کلاس روم میں ہے۔ جب میں وہاں گیا تو بچی اندر موجود تھی اور کمرے کو تالا لگا ہوا تھا۔ تالا کھلوایا گیا تو بچی کو باہر نکالا گیا۔‘

ان کے مطابق، حملے میں شدید زخمی ہونے والی بچی کو پہلے مقامی ہسپتالوں میں لے جایا گیا، جس کے بعد اسے مزید علاج کے لیے چندی گڑھ کے پی جی آئی منتقل کر دیا گیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق بچی کی جان کو فی الحال خطرہ نہیں، تاہم اسے اب بھی کافی چوٹیں آئی ہیں۔

تاہم اس معاملے میں پی جی آئی کی جانب سے تاحال بچی کی صحت کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ جسے دیکھ کر صارفین 8 سالہ بچے کی جانب سے شدید نوعیت کے تشدد کو دیکھ کر تشویش اور صدمے کا اظہار کر ہے ہیں۔

یہ ویڈیو کلاس روم میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کلاس روم میں ان دو بچوں کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔

8 سالہ بچہ اس 6 سالہ بچی کو بالوں سے دبوچ کر بار بار ڈیسک پر پٹختا ہے۔ بچی نیچے گرتی ہیں تو وہ اس کے سر پر پیروں سے ضربیں لگاتا ہے۔ اس کے بعد ایک اینٹ لا کر بار بار اس کے سر پر مارتا ہے۔

بچی کا خون پہنے کے باوجود وہ نہیں رکتا اور اسے بالوں سے گھسٹ کر بار بار تشدد کرتا ہے اور اس کے سینے اور چہرے پر لاتیں مارتا ہے۔

بچے کی جانب سے تشدد کی نوعیت نے سوشل میڈیا صارفین کو گہرے صدمے سے دوچار کیا ہے جس کا اظہار کرتے ہوئے کئی لوگوں نے لکھا کہ یہ ایک عام رویہ نہیں ہیں اس کی سرزنش اور روک تھام ضروری ہے ورنہ اس بچے کے بڑا ہونے پر پر یہ بدترین شکل اختیار کر لے گا۔

سہاسنی نامی صارف نے لکھا ’ویڈیو واقعی بہت دل دہلا دینے والی ہے۔ اس عمر کے ایک بچے میں اتنی شدت کا غصہ اور جارحانہ رویہ تشویش کا باعث ہے، جبکہ ننھی بچی کی معصومیت دل کو توڑ دینے والی ہے۔ یہ تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ اس بچی نے کس تکلیف کا سامنا کیا ہوگا اور اس کے والدین پر کیا گزری ہوگی۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہ زندہ بچ گئی۔‘

سنجے سنگھ کا کہنا تھا کہ ’میں واقعی یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ تیسری جماعت میں پڑھنے والا ایک بچہ اتنا سفاک تشدد کیسے کرسکتا ہے۔‘

مائلڈلی نامی صارف نے لکھا ’اس بچے کو دوبارہ کسی دوسرے بچے کے قریب نہیں ہونا چاہیے، جب تک اس کی ذہنی حالت کے بارے میں مکمل یقین نہ ہو جائے۔ اس نے جو کیا، وہ اس عمر کے بچے کے لیے معمول کی بات نہیں ہے۔‘

کچھ صارفین نے اس کا ذمہ دار موجود تعلیمی نظام اور دباؤ کے ساتھ ساتھ پر تشدد گھریلوں ماحول کو قرار دیا۔

نرمل نامی صارف نے لکھا کہ ’ہم بچوں پر کم عمری میں بہت زیادہ دباؤ ڈالتے ہیں، جیسے 9 گھنٹے سکول، 1 سے 2 گھنٹے ٹیوشن، اور گھر میں بار بار تشدد۔ اس قسم کا ماحول ان کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے اور ان کی ذہنیت کو غیر صحت مند بنا سکتا ہے۔‘

پروین سنگھ چوہان نے لکھا ’بچوں میں اس طرح کا پرتشدد رویہ دیکھنا تشویش ناک ہے، اور اس کی بڑی وجہ عموماً گھر کا ماحول ہوتا ہے۔ بچے اکثر وہی چیزیں سیکھتے اور اپناتے ہیں جو وہ اپنے اردگرد دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔‘

پنچکولا پولیس کی ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) ادیتی سنگھ کی جانب سے جاری ویڈیو بیان کے مطابق، ’طالبہ پی جی آئی میں زیرِ علاج ہے اور اس وقت خطرے سے باہر ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس معاملے میں ایک 8 سالہ کم عمر طالب علم ملوث ہے۔ جووینائل جسٹس ایکٹ کے تحت ماہرین کی مدد سے اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور آئندہ کارروائی اسی جائزے کی بنیاد پر کی جائے گی۔

ادیتی سنگھ کے مطابق، ابتدائی تحقیقات میں سکول انتظامیہ کی غفلت سامنے آئی ہے، جس کی وجہ سے سکول انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

پنچکولا کے ڈی سی پی کرائم امرندر سنگھ نے بتایا کہ انڈین قانون کے تحت 8 سال کے بچے کو نہ سزا دی جا سکتی ہے اور نہ ہی جیل بھیجا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں بچے کے خلاف تعزیری کارروائی کے بجائے اس کی اصلاح اور کونسلنگ پر توجہ دی جاتی ہے۔

اسی وجہ سے متعلقہ بچے کی ذہنی حالت اور رویے کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امرندر سنگھ کے مطابق، جووینائل جسٹس بورڈ نے بچے کو ایک آبزرویشن ہوم بھجوا دیا ہے۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہریانہ حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

وزیرِ تعلیم مہی پال ڈھانڈا نے کہا کہ اگر تحقیقات میں کسی کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اس کے علاوہ ہریانہ ریاستی کمیشن برائے تحفظِ حقوقِ اطفال نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے پنچکولا کے ضلعی تعلیمی افسر سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

کمیشن نے اساتذہ کی ڈیوٹی، سی سی ٹی وی فوٹیج، حاضری کا ریکارڈ اور اسکول کی جانب سے کی گئی کارروائی کی تفصیلات بھی مانگی ہیں۔

کمیشن کی چیئرپرسن ترپتی ہری پال شیوران نے بچی کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور اس کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

ہریانہ ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین جسٹس للت بترا نے بھی سکول کا دورہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر کسی استاد، پرنسپل یا دوسرے ذمہ دار افسر کی غفلت سامنے آتی ہے تو حکومت کو ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔

تعلیم کے محکمے نے بھی ضلعی سطح پر ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے، جسے دو دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو