ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026 · 21 جمادی الاول، 1448 ہجری

اسلام آبادہائیکورٹ کا مقدمے سے بری ہونیوالے شہری کےکیریکٹر سرٹیفکیٹ میں ایف آئی آرکا حوالہ نہ دینےکا حکم

پاکستان
اسلام آبادہائیکورٹ کا مقدمے سے بری ہونیوالے شہری کےکیریکٹر سرٹیفکیٹ میں ایف آئی آرکا حوالہ نہ دینےکا حکم

فوٹو: فائل

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقدمے سے بری ہونے والے شہری کے کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں ایف آئی آر کا حوالہ نہ دینےکا حکم دیتے ہوئے بریت کے بعد ایف آئی آر کا کیریکٹر سرٹیفیکیٹ میں حوالہ غیر قانونی قرار دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ایاز شوکت نے انیبہ عرفان کی درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو طریقہ کار وضع کرنےکی ہدایت کرتے ہوئےکہا ہےکہ قانون شہریوں کو جو حق دے چکا اس کے لیے عدالت آنا ضروری نہیں۔

عدالت نے پولیس کی جانب سے شہری کو جاری پہلا کیریکٹر سرٹیفکیٹ غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کو ڈسچارج ظاہر کرکے اس کی قانونی حیثیت کو کم کیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ بری ہونے والے شہریوں کو اس ریلیف کے لیے عدالت آنے پر مجبور نہ کیا جائے، پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں حتمی بریت پر ختم ہونے والی ایف آئی آر کو ظاہر کرنےکی کوئی قانونی گنجائش نہیں ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ پولیس اندرونی ریکارڈ اپنے پاس رکھ سکتی ہے لیکن بیرون ملک جانے والے شہری کے سرٹیفکیٹ میں نہیں ڈالا جاسکتا، بری ہونے والے شخص کو مجرم کی طرح پیش نہیں کیا جاسکتا۔

بشکریہ جیو نیوز