ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026 · 21 جمادی الاول، 1448 ہجری

گوجرانوالہ میں ولیمے کے روز دلہن کے قتل کا ملزم ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک‘، پولیس کا دعویٰ

پاکستان
گوجرانوالہ میں ولیمے کے روز دلہن کے قتل کا ملزم ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک‘، پولیس کا دعویٰ

پاکستان کے صوبے پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے دعویٰ کیا ہے کہ گوجرانوالہ میں شادی سے انکار پر ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا ملزم سرفراز ’اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا ہے۔‘

تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کے مطابق ’پولیس مخبر کی اطلاع پر ملزم اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کارروائی کر رہی تھی کہ ملزم کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی۔‘

پولیس کے مطابق ’فائرنگ کے تبادلے کے دوران سرفراز اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے زخمی ہو گیا۔ اسے ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم وہ راستے میں دم توڑ گیا۔ اس مقدمے میں نامزد ایک خاتون ملزمہ کو پہلے ہی حراست میں لیا جا چکا ہے۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ سرفراز نے مقتولہ صبا کے لیے شادی کا پیغام بھیجا تھا، جسے لڑکی کے والدین نے مسترد کر دیا تھا۔ بعد ازاں وہ محنت مزدوری کے لیے عراق چلا گیا۔

دو سال بعد واپسی پر اسے معلوم ہوا کہ صبا کی شادی ہو رہی ہے۔ پولیس کے مطابق اس نے شادی رکوانے کی کوشش کی، لیکن ناکامی پر ولیمے کے روز دلہن کو گاڑی میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

پولیس کے مطابق واردات کے بعد ملزم سندھ فرار ہو گیا تھا اور وہاں سے بلوچستان جانے کا ارادہ رکھتا تھا، تاہم گوجرانوالہ واپس آنے پر مخبر کی اطلاع پر پولیس نے اس کا سراغ لگا لیا۔

یہ واقعہ گوجرانوالہ کے علاقے سمن آباد میں 23 اکتوبر کو پیش آیا تھا، جس کا مقدمہ اتوار کو تین افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا۔

ولیمے کی تقریب کے بعد جب صبا اپنے شوہر کے ساتھ گاڑی میں میکے جا رہی تھیں تو سمن آباد کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے ان کی گاڑی کو روک لیا۔

مقامی پولیس اور مقتولہ کے بھائی اعجاز کے مطابق دونوں ملزمان میرج ہال سے ہی گاڑی کا پیچھا کر رہے تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ ملزم نے گاڑی روک کر ان کی بہن کو مخاطب کر کے کہا کہ ’تم نے کسی اور سے شادی کر کے میری غیرت کو للکارا ہے۔‘

گوجرانوالہ پولیس کا ایک بیان میں دعویٰ ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ’ملزم نے مقتولہ صبا کے ساتھ پسند کی شادی نہ ہونے کی رنجش پر اسے قتل کیا۔‘

مقتولہ کے بھائی اعجاز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ تقریباً تین سال قبل ملزم نے ’اپنے والدین کو صبا کے رشتے کے گھر بھیجا تھا، تاہم غیر برادری ہونے کی وجہ سے اس رشتے سے انکار کر دیا گیا تھا۔‘

ان کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ملزم کو اسی بات کا رنج تھا۔

اعجاز کا مزید کہنا تھا کہ ’رشتے سے انکار کے بعد ملزم کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا اور نہ ہی مقتولہ یا خاندان کو کسی قسم کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اسی وجہ سے خاندان کو یقین تھا کہ یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔

اس واقعے کے حوالے سے درج ایف آئی آر میں ایک خاتون کو بھی بطور ملزمہ نامزد کیا گیا تھا اور مدعی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ قتل ان ہی کی ایما پر ہوا ہے، جو کہ صبا کی شادی میں بھی شریک تھیں۔

مقدمے کی تفتیش سے وابستہ ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتولہ صبا طفیل اور مقدمے میں نامزد خاتون گوجرانوالہ میں بال پوائنٹس تیار کرنے والی ایک فیکٹری میں کام کرتی تھیں، جہاں دونوں کے درمیان دوستی ہوئی۔

تفتیشی اہلکار کے مطابق اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ اسی دوران ملزم کی اپنی کزن (ملزمہ) کے ذریعے مقتولہ سے واقفیت ہوئی ہو۔

انھوں نے بتایا کہ چونکہ مقتولہ اور نامزد ملزمہ ایک ساتھ کام کرتی تھیں، اس لیے غالب امکان ہے کہ مقتولہ نے ہی ان کو اپنی شادی میں مدعو کیا ہو۔

دوسری جانب مقتولہ کے بھائی اعجاز کا کہنا ہے کہ ان کی بہن نے دو سال قبل ملازمت چھوڑ دی تھی اور اس کے بعد وہ ڈی سی کالونی میں واقع ایک مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔

اس واقعے کا مقدمہ گوجرانوالہ میں سی سی ڈی کے تھانے میں درج کیا گیا ہے۔

سی سی ڈی گوجرانوالہ کے انچارج رضوان طارق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے تکنیکی ذرائع سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔

رضوان طارق کے مطابق جیو فینسنگ سمیت دیگر تکنیکی شواہد حاصل کیے جا رہے ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں تاکہ ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔

بشکریہ بی بی سی اردو