اندرا گاندھی کا قتل اور وہ فون کال جس کے بعد انڈیا اور پاکستان کا کرکٹ میچ روکنا پڑا

31 اکتوبر 1984 کو پاکستان کے مشرقی شہر سیالکوٹ میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان دوسرے ایک روزہ میچ کے دوران انڈیا کے بلے باز دلیپ وینگسرکر اپنی پہلی ایک روزہ بین الاقوامی سنچری کے قریب تھے جب انھوں نے پاکستانی کھلاڑی جاوید میانداد کو تھرڈ مین کی پوزیشن سے اپنی جانب آتے دیکھا۔
دلیپ وینگسرکر نے انڈین ایکسپریس کے صحافی سندیپ دیویدی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس وقت ان کے ذہن میں کئی خیالات آئے۔
’میں نے سوچا کہ شاید پاکستانی کپتان ظہیر عباس مجھے دباؤ میں لانے کے لیے فیلڈر کو قریب کھڑا کرنے کی حکمتِ عملی اپنا رہے ہیں۔ یا پھر شاید جاوید میانداد اپنی پرانی عادت کے مطابق اوورز کے درمیان چھیڑ چھاڑ یا میری توجہ بٹانے کے لیے کوئی اشتعال انگیز بات کرنے آ رہے ہیں۔‘
لیکن میانداد کے چہرے پر سنجیدگی دیکھ کر وینگسرکر حیران رہ گئے۔
سنہ 2009 میں دیے گئے اس انٹرویو میں وینگسرکر نے بتایا: ’وہ میرے پاس آئے اور کہا کہ انھوں نے تماشائیوں میں سے کسی شخص سے سنا ہے کہ انڈیا کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ان دنوں لوگ میچ دیکھنے کے لیے اپنے ساتھ ٹرانزسٹر ریڈیو لایا کرتے تھے اور اسی طرح انھیں اس خبر کا پتا چلا تھا۔‘
بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سابق کپتان جاوید میانداد نے کہا کہ انھیں اس واقعے سے متعلق کچھ یاد نہیں۔
سنیل گواسکر کی قیادت میں انڈین ٹیم تین ٹیسٹ اور تین ایک روزہ میچ کھیلنے کے لیے پاکستان کے دورے پر تھی۔
دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان لاہور اور فیصل آباد میں کھیلے گئے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچ زیادہ رنز بننے کے باوجود ڈرا ہوئے تھے جبکہ پاکستان کوئٹہ میں کھیلا گیا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ 46 رنز سے جیت چکا تھا۔
اب دونوں ٹیموں نے 31 اکتوبر 1984 کو سیالکوٹ میں دوسرا ایک روزہ میچ کھیلنا تھا۔
اس دورے سے قبل سیالکوٹ میں ایسا کوئی ہوٹل موجود نہیں تھا جہاں مہمان ٹیموں کو ٹھہرایا جا سکے۔
اُس وقت سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر اسماعیل قریشی نے جریدے ’دی کرکٹ منتھلی‘ کے لکھاری دانیال رسول کو بتایا تھا: ’ہم عام طور پر مہمان ٹیموں کو لاہور میں ٹھہراتے تھے۔ میچ والے دن صبح چار بجے انھیں جگا کر سیالکوٹ لاتے اور میچ کے بعد واپس لاہور لے جاتے تھے۔‘
انڈین ٹیم پہلی مہمان ٹیم تھی جسے سیالکوٹ کے ایک نئے تعمیر شدہ ہوٹل میں ٹھہرنا تھا۔
سیالکوٹ کے صحافی عبدالشکور مرزا کے مطابق دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اس بات پر خوش تھے کہ انھیں میچ والے دن علی الصبح چار بجے اٹھ کر دو گھنٹے سے زیادہ کا سفر نہیں کرنا پڑا۔
دانیال رسول کے مطابق انڈین ٹیم کے ساتھ کئی صحافی بھی آئے تھے لیکن نیا ہوٹل سب کے قیام کے لیے کافی نہیں تھا۔
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
چنانچہ، اسماعیل قریشی کے مطابق، ’انتظامیہ نے علاقے کے چند نسبتاً آرام دہ گھروں کے مالکان سے درخواست کی کہ وہ رات کے لیے کچھ انڈین مہمانوں کے قیام کا انتظام کریں اور انھوں نے خوش دلی سے یہ درخواست قبول کر لی۔‘
عبدالشکور مرزا نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ میچ اس لحاظ سے بھی یادگار تھا کہ انڈین کھلاڑیوں کو لاہور کے بجائے سیالکوٹ میں ٹھہرانے کے لیے وزیر آباد چوک کے قریب میرٹن نامی ایک نیا ہوٹل تعمیر کیا گیا تھا جبکہ پاکستانی ٹیم کو شہر کے صنعت کاروں کے گھروں میں ٹھہرایا گیا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اس میچ کی کوریج کرنے والے عبدالشکور مرزا کے مطابق انھیں میچ سے ایک روز قبل دونوں ٹیموں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں شرکت کا موقع بھی ملا۔
ان کے مطابق انڈین کھلاڑی پہلی مرتبہ سیالکوٹ میں ایک روزہ میچ کھیلنے پر خاصے خوش تھے، خصوصاً اس شہر میں جو دنیا بھر میں کھیلوں کا سامان بنانے کے لیے مشہور ہے۔
مرزا کے بقول سنیل گواسکر نے انھیں بتایا تھا: ’خوشی ہے کہ جو شہر دنیا بھر میں کھیلوں کا سامان بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، اسی شہر سے تعلق رکھنے والے ظہیر عباس کی کپتانی میں میچ ہے۔ کل دیکھیں گے وہ اپنے شہر کو کیسا کھیل دکھاتے ہیں۔
’دوسری طرف ظہیر عباس کا کہنا تھا کہ اپنے آبائی شہر میں پاکستانی ٹیم کی کپتانی کرتے ہوئے جو دلی خوشی ہو رہی ہے، اسے وہ الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے۔‘
میچ سیالکوٹ کے جناح سٹیڈیم میں ہونا تھا، جو مرزا کے مطابق پاکستان کے قدیم ترین کرکٹ میدانوں میں شمار ہوتا ہے۔
ان کے مطابق برطانوی دور میں 1920 کی دہائی میں تعمیر ہونے والے اس میدان کو ابتدا میں کونلی پارک کہا جاتا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد اس کا نام جناح پارک رکھا گیا جبکہ 1979 میں اس کی تزئین و آرائش کے بعد اسے جناح سٹیڈیم کا نام دیا گیا۔
یہی میدان 1976 میں پاکستان میں پہلے ایک روزہ بین الاقوامی میچ کی میزبانی بھی کر چکا تھا۔
مرزا کے مطابق اس میچ کے لیے تیار کی گئی پچ کی مٹی نندی پور سے لائی گئی تھی۔
سردیوں میں دن چھوٹے ہوتے ہیں اور سیالکوٹ میں فلڈ لائٹس بھی موجود نہیں تھیں۔ اسی لیے سیریز کے ایک روزہ میچوں کے لیے دونوں ٹیموں کو 40،40 اوور دیے گئے تھے تاکہ کھیل وقت پر مکمل ہو سکے۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔
سنیل گواسکر کے زخمی اور کپل دیو کے فٹ نہ ہونے کی وجہ سے انڈیا اس میچ میں آل راؤنڈر مہندر امرناتھ کی قیادت میں میدان میں اترا تھا۔ اس میچ کے بعد مہندر امرناتھ کو دوبارہ کبھی انڈین ٹیم کی قیادت کے لیے زیرِ غور نہیں لایا گیا۔
میچ معمول کے مطابق آگے بڑھ رہا تھا اور تماشائی کھیل سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
مرزا کے مطابق مقامی نوجوان مصور طارق نسیم نے پویلین میں سنیل گواسکر اور دیگر کھلاڑیوں کو اپنے ہاتھ سے بنائے گئے پورٹریٹ بھی پیش کیے۔
میدان میں انڈیا کی جانب سے انشومن گائیکواڈ اور غلام پارکر نے اننگز کا آغاز کیا۔ 53 رنز تک دونوں اوپنرز مدثر نذر کا شکار بن چکے تھے۔
تاہم دلیپ وینگسرکر اور سندیپ پاٹل نے سکور 196 تک پہنچا دیا۔ یہ شراکت اُس وقت ختم ہوئی جب سندیپ پاٹل 59 رنز بنا کر توصیف احمد کی گیند پر بولڈ ہوئے۔
لیکن میدان کے باہر صورت حال بدلنا شروع ہو چکی تھی۔
’دی کرکٹ منتھلی‘ کو 2016 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈپٹی کمشنر اسماعیل قریشی نے بتایا کہ وہ میچ دیکھ رہے تھے جب تقریباً ساڑھے دس بجے پنجاب کے چیف سیکریٹری کا فون آیا۔
1984 میں بھی ٹیلی فون کمپنی اس بات کو یقینی بناتی تھی کہ ڈپٹی کمشنر جہاں کچھ وقت کے لیے تعینات ہو، وہاں لینڈ لائن ٹیلی فون ضرور نصب ہو۔
فون پر انھیں بتایا گیا کہ اندرا گاندھی کو دہلی میں گولی مار کر زخمی کر دیا گیا ہے اور پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق نے میچ فوری طور پر منسوخ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
اسماعیل قریشی کے مطابق: ’میں حیران و پریشان سوچ رہا تھا کہ یہ حکم نافذ نہیں کیا جا سکتا! میں اننگز کے درمیان سب کے سامنے جا کر کیسے کہتا کہ اپنا سامان اٹھائیں اور گھروں کو چلے جائیں؟ میں نے فیصلہ کیا کہ فی الحال میچ جاری رہنے دیا جائے۔‘
مرزا کے مطابق ڈپٹی کمشنر اسماعیل قریشی کو میچ فوری ختم کرنے کی ہدایت ملی تھی، لیکن انھوں نے فیصلہ کیا کہ انڈین اننگز مکمل ہونے دی جائے۔
جب انڈیا کی اننگز ختم ہوئی تو ٹیم نے مقررہ 40 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 210 رنز بنائے تھے۔
دلیپ وینگسرکر اپنی سنچری سے صرف چھ رنز دور تھے۔ انھوں نے 102 گیندوں پر ناقابلِ شکست 94 رنز بنائے جبکہ روی شاستری چھ رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ تھے۔
دانیال لکھتے ہیں کہ کھانے کا وقفہ اسماعیل قریشی کے لیے ٹیموں کو خبر دینے اور میچ ختم کرنے کا بہترین موقع تھا۔
وہ انڈین ڈریسنگ روم گئے اور سنیل گواسکر اور ٹیم منیجر راج سنگھ ڈونگرپور کو صورت حال سے آگاہ کیا۔
اسماعیل قریشی یاد کرتے ہیں: ’سنیل گواسکر نے یہ خبر سن کر حیرت سے سانس کھینچی۔ میں نے انھیں صدر ضیاء الحق کے حکم کے بارے میں نہیں بتایا، بلکہ ان سے پوچھا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔‘
’انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ٹیم سامان باندھے گی اور واپس جائے گی۔ میں نے انھیں بتایا کہ تمام انتظامات کر لیے گئے ہیں اور گاڑیاں باہر لاہور روانگی کے لیے تیار کھڑی ہیں۔‘
کچھ ہی دیر میں انڈین ٹیم لاہور روانہ ہو چکی تھی۔
انڈین اخبار ’دی ٹیلیگراف‘ کے صحافی لوکیندر پرتاپ ساہی لکھتے ہیں کہ دلیپ وینگسرکر نے بعد میں ان کے اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ 'پاکستانی کھلاڑی بھی اس خبر سے متاثر دکھائی دے رہے تھے۔ کپتان ظہیر عباس ہوں یا جاوید میانداد، وہ ہمارے ڈریسنگ روم میں آئے، تعزیت کی اور ہماری ڈھارس بندھائی۔
’ان کا یہ رویہ بھی مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔‘
لوکیندر کے مطابق جناح سٹیڈیم میں صحافیوں کے لیے کوئی میڈیا سینٹر نہیں تھا۔
’اس لیے ایک چھوٹی سی عمارت کی چھت پر ہمارے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا، جہاں ہمارے ارد گرد تماشائی موجود تھے۔
’بظاہر آل انڈیا ریڈیو کے کمنٹیٹرز کو اندرا گاندھی کے قتل کی خبر سب سے پہلے اپنے ہاٹ لائن ٹیلی فون پر ملی تھی۔ انھوں نے فوراً ٹیم منیجر راج سنگھ کو اس سے آگاہ کر دیا۔
راج سنگھ نے اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کے حکام اور مقامی انتظامیہ سے رابطے شروع کر دیے، جس کی سربراہی سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر اسماعیل قریشی کر رہے تھے۔
’راج سنگھ نے ہمیں پیغام بھجوایا کہ ہم خاموشی سے ڈریسنگ روم کے قریب جمع ہو جائیں۔ راج سنگھ نے نم آنکھوں سے کہا: حضرات، ہماری وزیرِ اعظم کو گولی مار دی گئی ہے۔ ہم کھانے کے وقفے پر میچ ختم کر رہے ہیں۔
’اس کے بعد انھوں نے ہمیں خبردار کیا: ایک ساتھ رہو، اِدھر اُدھر مت جاؤ۔۔۔ وقت حساس ہے۔‘
اس کے بعد ایک اہم مرحلہ باقی تھا: سٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین کو میچ ختم ہونے کی اطلاع دینا۔
اسماعیل قریشی نے اعلان کیا کہ اندرا گاندھی کو گولی مار دی گئی ہے اور میچ ختم کر دیا گیا ہے۔
لوکیندر کے مطابق میچ ختم کرنے کا اعلان اس وقت کیا گیا جب گواسکر اور ان کے ساتھی سڑک کے راستے لاہور روانہ ہو چکے تھے۔
لوکیندر لکھتے ہیں کہ: ’ہم صحافی بھی تقریباً فوراً وہاں سے روانہ ہو گئے۔ پہلے اس شاندار مہمان خانے میں پہنچے جہاں ہمارے قیام کا انتظام تھا، اور پھر مسلح محافظوں کی نگرانی میں لاہور روانہ ہوئے۔
’لاہور میں ایک دن گزارنے کے بعد نئی دہلی سے پیغام آیا کہ ٹیم کو پہلی دستیاب پرواز سے وطن واپس پہنچنا ہے۔ چونکہ انڈین دار الحکومت میں حالات قابو سے باہر ہو رہے تھے، اس لیے انڈین ٹیم کراچی پہنچی اور وہاں سے دو الگ الگ گروپوں میں انڈیا روانہ ہوئی۔
’ہم صحافیوں کو لاہور سے نئی دہلی جانے والی پی آئی اے کی پرواز میں ترجیحی نشستیں ملنے تک مزید ایک دن انتظار کرنا پڑا۔ ہوٹل میں، ہوائی اڈے پر اور دورانِ پرواز، بہت سے لوگوں نے ہم سے ہمدردی کا اظہار کیا۔‘
عبدالشکور مرزا نے بتایا کہ یہ کرکٹ میچ سیالکوٹ کے شہریوں نے اپنے مثبت رویے سے مزید یادگار بنا دیا تھا۔
عبدالشکور مرزا کے مطابق جب جناح سٹیڈیم میں انڈین وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے قتل کی خبر آئی تو یہاں موجود 25 ہزار سے زائد تماشائیوں نے اس خبر پر افسوس کا اظہار کیا اور انتہائی منظم انداز میں سٹیڈیم سے روانہ ہو گئے۔
مرزا کے مطابق بعد ازاں انڈیا کا دورہ ختم کر دیا گیا، پشاور میں کھیلا جانے والا اگلا ایک روزہ میچ اور کراچی کا آخری ٹیسٹ بھی منسوخ کر دیا گیا۔
دوسری جانب انگلینڈ کی ٹیم بھی 31 اکتوبر 1984 کو علی الصبح انڈیا کے دورے پر نئی دہلی پہنچی تھی، لیکن چند ہی گھنٹوں بعد وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے قتل اور ملک میں سکھ مخالف تشدد کے باعث اس دورے کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا۔
انڈین کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے دورے پر موجود انڈین ٹیم کو تو واپس بلا ہی لیا تھا، اسے انگلینڈ کےخلاف ابتدائی میچ بھی منسوخ کرنا پڑے۔
ملک میں جاری فسادات کی وجہ سے انگلش ٹیم کو کئی روز تک دہلی میں اپنے ہوٹل میں بند رہنا پڑا۔
بعد ازاں انڈین حکومت اور کرکٹ بورڈ کی اجازت سے وہ چار نومبر کو سری لنکا چلی گئی، جہاں نو روز پریکٹس اور چند میچ کھیلنے کے بعد حفاظتی یقین دہانیوں پر انڈیا واپس آ گئی۔
لیکن واپسی پر ایک اور واقعہ اس کا منتظر تھا۔
27 نومبر کو، پہلے ٹیسٹ کے آغاز سے ایک روز قبل، بمبئی میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر پرسی نورس کو صبح کام پر جاتے ہوئے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
اس واقعے کے بعد انگلینڈ کا دورہ تقریباً ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا، لیکن بالآخر ٹیم نے انڈیا میں قیام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کو مختصر کر کے چار ٹیسٹ تک محدود کر دیا گیا۔
سابق انگلش کرکٹر اور صحافی وِک مارکس کے مطابق، بظاہر یہ ایک تباہ کن دورہ تھا۔ ممبئی میں پہلے ٹیسٹ سے ایک روز قبل برطانوی نائب ہائی کمشنر پرسی نورس کے قتل نے کھلاڑیوں کے خدشات مزید بڑھا دیے تھے۔ بیشتر کھلاڑی وطن واپس جانا چاہتے تھے، کیونکہ انھیں اپنی سلامتی کا یقین نہیں تھا۔
اس کے باوجود دورہ جاری رہا، ڈیوڈ گاور کی قیادت میں انگلینڈ نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔
انگلش ٹیم نے دہلی میں دوسرا اور مدراس میں چوتھا ٹیسٹ جیتا، آخری ٹیسٹ ڈرا کیا اور سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی۔
بی بی سی کے مبصر ڈینیئل نورکراس کے مطابق، اکتوبر 1984 سے فروری 1985 تک انگلینڈ نے انڈیا اور سری لنکا کے 16 مقامات پر میچ کھیلے۔ یہ پہلی انگلش ٹیم تھی جس نے انڈیا میں ٹیسٹ سیریز میں پیچھے ہونے کے بعد کامیابی حاصل کی۔
اس دورے کے دوران دلیپ وینگسرکر نے اپنی واحد ایک روزہ بین الاقوامی سنچری بھی سکور کی، یہ سنچری سیالکوٹ کے اس ادھورے میچ میں مکمل نہ ہو سکی تھی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی ویب سائٹ پر 31 اکتوبر 1984 کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیالکوٹ میں کھیلے گئے اس میچ کے سکور کارڈ کے سامنے صرف دو الفاظ درج ہیں: ’نو رزلٹ‘ یعنی بے نتیجہ۔
مگر سیالکوٹ کے جناح سٹیڈیم میں اس دن جو کچھ ہوا، اس کی کہانی محض ایک بے نتیجہ کرکٹ میچ کی نہیں۔
یہ وہ دن تھا جب ایک بلے باز اپنی سنچری سے چند رنز دور تھا، ہزاروں شائقین میدان میں موجود تھے، اور پھر ایک خبر نے نہ صرف ایک میچ بلکہ ایک پوری سیریز کا رخ بدل دیا تھا۔
بشکریہ بی بی سی اردو