جمعہ، 30 اکتوبر، 2026 · 20 جمادی الاول، 1448 ہجری

آپکے 15 ہمارے 5، ایسے بیٹھنے سے تو نہ بیٹھنا بہتر: پی ٹی آئی چیئرمین کا انتخابی اصلاحات کمیٹی پر ردعمل

پاکستان
آپکے 15 ہمارے 5، ایسے بیٹھنے سے تو نہ بیٹھنا بہتر: پی ٹی آئی چیئرمین کا انتخابی اصلاحات کمیٹی پر ردعمل

انتخابی اصلاحات کےلیے حکومت اور اپوزیشن کی نمائندگی برابر ہونی چاہیے، انتخابی اصلاحات غیرجانبدار اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونی چاہئیں: بیرسٹر گوہر— فوٹو:فائل

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے انتخابی اصلاحات کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کی برابر کی نمائندگی کا مطالبہ کردیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھاکہ آپ کے 15 ہمارے 5، ایسے بیٹھنے سے تو نہ بیٹھنا بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کےلیے حکومت اور اپوزیشن کی نمائندگی برابر ہونی چاہیے، انتخابی اصلاحات غیرجانبدار اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونی چاہئیں۔

ان کا کہنا تھاکہ بیرونی انتشار کا پوری قوم مل کر مقابلہ کرتی ہے، اندرونی انتشار ملک کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے، ملک میں کشیدگی بڑھانےکے بجائےسیاسی رہنماؤں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

پیپلزپارٹی نے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دیدی

بیرسٹرگوہر کا کہنا تھاکہ مولانا فضل الرحمان کی تقریرمیں بعض الفاظ ادا نہ ہوتےتو بہتر تھا،مولاناصاحب کی تقریرکےجواب میں جس طرح حملےکیےگئے وہ بھی نامناسب ہیں، ملک میں تناؤ بہت حد تک پہنچ چکاہے،کشیدگی مزید نہیں بڑھنی چاہیے۔

انہوں نےکہاکہ ہم ریڈلائن کراس کرنے والے نہیں، ہمارا مؤقف ہے پاکستان پہلے اور ریاست پہلے، سیاسی قیادت اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سےگریزکرناچاہیے۔

خیال رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی دعوت پر پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) انتخابی اصلاحات کے لیے تعاون پر آمادہ ہوگئی اور باضابطہ جواب چند روز میں دیے جانے کا امکان ہے۔

انتخابی اصلاحات کمیٹی 2024 کے عام انتخابات، ضمنی انتخابات، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر انتخابات کا جائزہ لے گی، اگر کوئی دھاندلی ثابت ہوئی تو ذمے داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

بشکریہ جیو نیوز