خیبرپختونخوا کے صحت کارڈ پلس پروگرام میں ادویات اور طبی سامان کی مہنگے داموں خریداری کا انکشاف

سرکاری سطح پر ادویات کی خریداری میں 70 فیصد تک رعایت حاصل کرنے کی گنجائش موجود ہے لیکن صحت کارڈ پلس سے منسلک اسپتالوں میں محض 15 فیصد تک رعایت پر ادویات خریدی گئیں: آڈٹ رپورٹ— فوٹو:فائل
خیبرپختونخوا کے صحت کارڈ پلس پروگرام میں ادویات اور طبی سامان کی مہنگے داموں خریداری کا انکشاف ہوا ہے۔
خریداری کے نظام میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کے باعث سرکاری خزانے پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
صحت کارڈ پروگرام سے متعلق آڈٹ رپورٹ کے مطابق سرکاری سطح پر ادویات کی خریداری میں 70 فیصد تک رعایت حاصل کرنے کی گنجائش موجود ہے لیکن صحت کارڈ پلس سے منسلک اسپتالوں میں محض 15 فیصد تک رعایت پر ادویات خریدی گئیں، یوں سرکاری خریداری کے نظام اور صحت کارڈ کے تحت خریداری میں رعایت کا حیران کن فرق سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
کےپی اکنامک زونز ڈویلپمنٹ کمپنی کے 2024-25 کے آڈٹ میں 18 ارب سے زائد کی بےضابطگیوں اور خورد برد کا انکشاف
وزارتِ مواصلات میں مالی سال 23-2022 کے دوران 222 ارب روپے سے زائد مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صحت کارڈ پلس سے منسلک اسپتالوں نے ادویات اور طبی سامان کی خریداری کے لیے مرکزی خریداری نظام کو نظرانداز کیا اور مقامی سپلائرز سے مہنگے داموں خریداری کی۔
رپورٹ کے مطابق صحت کارڈ پلس کے مجموعی طبی اخراجات کا 40 سے 45 فیصد ادویات، طبی آلات اور دیگر طبی سامان پر خرچ ہوتا ہے، الگ الگ خریداری کے طریقہ کار کے باعث سرکاری خزانے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ صحت کارڈ پلس کے تحت ادویات اور طبی سامان کی خریداری کے نظام کو ڈیجیٹل بنایا جائے، خریداری کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے اور مرکزی خریداری نظام کے ذریعے شفافیت اور کم قیمتوں کو یقینی بنایا جائے۔
بشکریہ جیو نیوز