جمعہ، 30 اکتوبر، 2026 · 20 جمادی الاول، 1448 ہجری

لائیو , ایران اور امریکہ معاہدے کے قریب ہیں: امریکہ کے سفیر برائے ترکی

پاکستان
لائیو , ایران اور امریکہ معاہدے کے قریب ہیں: امریکہ کے سفیر برائے ترکی

ترکی میں امریکہ کے سفیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے شام اور عراق کے لیے خصوصی نمائندے ٹام باراک کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران فوجی کشیدگی میں کمی سے متعلق ایک معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب ہیں۔

باراک نے جمعرات کو دوحہ میں سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران کشیدگی کم کرنے اور فوجی جھڑپوں کو روکنے کے لیے اہم اقدامات کیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا، ’ہم بہت قریب پہنچ چکے ہیں، اتنے قریب کہ یہ کہہ سکیں کہ آئیے ایک وقفہ لیں اور کشیدگی کی شدت کم کریں‘۔

باراک نے قطر، پاکستان اور امریکہ کے دیگر اتحادیوں کی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سیاسی عمل پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انھوں نے زور دیا کہ فوری طور پر ایک جامع معاہدہ ممکن نہیں، تاہم دشمنی میں وقفہ پیدا کرکے مزید مذاکرات اور نئے علاقائی انتظامات کی تشکیل کے لیے راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

ان کے مطابق اس وقت مقصد یہ ہے کہ فریقین پہلے کشیدگی کی شدت کم کریں، پھر خطے کے ممالک کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنی رفتار اور حالات کے مطابق زیادہ پائیدار حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

باراک نے یہ بھی کہا کہ فوجی طاقت کا استعمال ایک ایسا معاملہ ہے جسے امریکی صدر اور حکومت کے دیگر عہدیدار انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں، لیکن اس وقت تمام ممکنہ متبادل راستے اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ایسی کسی کارروائی سے بچا جا سکے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب جزیرہ قشم کے سمندری علاقے میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

ارنا کے قشم میں موجود نمائندے کے مطابق دھماکوں کی آوازیں سمندر کی سمت سے سنائی دیں، جبکہ جزیرے کے متعدد رہائشیوں نے آسمان میں روشنیاں دیکھنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

اسی دوران بعض مقامی ذرائع نے جزیرہ قشم میں فضائی دفاعی نظاموں کی سرگرمی کی اطلاعات دی ہیں۔

غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق امکان ہے کہ سنی جانے والی آوازیں ان بحری جہازوں کی جانب انتباہی فائرنگ کے باعث پیدا ہوئی ہوں جن پر مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں خلاف ورزی کا الزام ہے۔

تاہم ان آوازوں کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمی یا انتباہی فائرنگ سے متعلق رپورٹس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اسرائیل میں آج تک کوئی ایک جماعت پارلیمان (کنیسٹ) کی 120 نشستوں میں سے 61 یا اس سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے تنہا حکومت نہیں بنا سکی، اس لیے حکومت ہمیشہ اتحادی جماعتوں کے اشتراک سے تشکیل پاتی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس مرتبہ بھی صورتحال کچھ ایسے ہی ہے، جہاں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی اتحادی جماعتیں 53 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہیں جبکہ ان کے اہم حریف گاڈی آئزنکوٹ کا اتحاد 48 سیٹوں پر کامیاب ہوا ہے۔

ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اسرائیلی صدر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہو کہ اس کے پاس اتحادی حکومت تشکیل دینے کے بہترین امکانات موجود ہیں۔

نامزد امیدوار کے پاس حکومت بنانے کے لیے 28 دن ہوتے ہیں۔ اگر مذاکرات مکمل نہ ہو سکیں تو وہ مزید 14 دن کی توسیع بھی طلب کر سکتا ہے۔

اگر پہلے امیدوار کی کوشش ناکام ہو جائے تو صدر کسی دوسرے رہنما کو حکومت بنانے کا موقع دے سکتے ہیں۔ اگر وہ بھی مطلوبہ اتحادی اکثریت حاصل نہ کر سکے تو کنیسٹ کے ارکان کسی تیسرے امیدوار کے نام پر اتفاق کر کے اسے بھی موقع دے سکتے ہیں۔

اگر تمام کوششیں ناکام ہو جائیں تو نئے انتخابات کرائے جاتے ہیں۔

اسرائیل میں سیاسی تقسیم اور جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باعث 2019 سے 2022 کے درمیان پانچ مرتبہ عام انتخابات کرانا پڑے تھے۔

سنہ 2022 کے انتخابات میں بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود 120 میں سے 32 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔ بعد ازاں انھوں نے متعدد دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنا کر 64 نشستوں کی اکثریت حاصل کی اور حکومت تشکیل دی تھی۔

بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

جمعرات29 اکتوبر تک کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔

بشکریہ بی بی سی اردو