ایف آئی اے کراچی کے مال خانے سے کروڑوں کا سونا چاندی غائب؛ تحقیقات پر سوالات اٹھ گئے

کراچی: ایف آئی اے کراچی کے مال خانے سے مقدمے میں ضبط کروڑوں روپے مالیت کا سونا اور چاندی غائب ہونے کے اسکینڈل میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تحقیقات جاری ہیں ۔اس مقدمے میں گرفتار ایف آئی اے انسپکٹر ڈاکٹر سہیل شیخ محمود کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے ۔ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی تفتیشی ٹیم پراسرار طور پر چوری ہونے والے مال کو تلاش نہیں کرسکی ہے ۔
کیا فیکٹ فائنڈنگ ٹیم ایف آئی اے کراچی کے انتظامی معاملات اور ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی کی گزشتہ ایک برس کی کارکردگی اور ایف آئی اے کراچی کے سرکلز کی کراچی کاٹن ایکسچینج بلڈنگ میں منتقلی کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں اور چوری کی وارداتوں کا بھی جائزہ لے گی ۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے مال خانے سے کروڑوں روپے مالیت کی ضبط شدہ۔سونا او چاندی کی کیس پراپرٹی چوری ہونے پر ایف آئی اے کراچی کی ساکھ کو شدید دھچکا لگا ہے اور اسی لئے ایف آئی اے اینٹی کرپشن کے درج مقدمے میں تفتیش جاری ہے تاہم تفتیشی حکام تاحال پرسرار چودی کرنے میں ملوث اصل کرداروں کی نشاندہی نہیں کرسکی ہے ۔
یاد رہے کہ 8 مئی 2026 کو صدر صرافہ بازار میں TGM نامی جیولرز کو ایف آئی اے کراچی نے رات 2 بجے کے لگ بھگ۔ چھاپے میں پہلے کمپنی کے مالک طارق محمود کو گرفتار کیا تھا اس مقدمے میں ملزم کی گرفتاری اور ضمانت پر رہائی کے بعد ملزم کی جانب سے عدالت میں دائر درخواستوں نے اس مقدمے کی تفتیشی پر سوالات اٹھائے لیکن اس وقت ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی تفتیشی ٹیم اس قدر بااثر تھی کہ ان پر اٹھنے والے سوالات دبائے جارہے تھے ۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے 8 مئی کو جیولرز طارق محمود کے خلاف مقدمے میں دائر متفرق درخواستوں میں ایف آئی اے کے تفتیشی ٹیم پر الزام عائد کیا گیا کہ جس وقت
چھاپہ مارا گیا اس وقت دفتر میں سی سی ٹی وی کیمرے کی ڈی وی آر نکالی گئی دفتر میں موجود ٹیبل کی دراز سے 15 لاکھ روپے نقد اور راڈو گھڑی بھی اٹھائی گئی جسے مقدمے کا حصہ یا کیس پراپرٹی کا حصہ نہیں بنایا گیا ۔
درخواست گزار کے مطابق اس کارروائی میں دفتر سے تجوری اٹھائی گئی جس میں سونا ،چاندی اور زیوارات موجود تھے اس تجوری کا اگر خالی وزن کیا جائے تو یہ 110 کلو وزنی ہے اس میں سونا ،چاندی اور زیوارات کی موجودگی کی وجہ سے ایف آئی اے دفتر منتقل کرنے کے لئے 6 سے 8 مزدوروں کی مدد لی گئی اور ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے اس وقت کے ڈپٹی ڈائریکٹر اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ کی موجودگی میں تجوری کو کھولا گیا اور اس میں سے سونا ،چاندی اور سونے کے زیورات میڈیا کو دکھائے گئے اور بعد ازاں ایف آئی اے کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر اس کی تصاویر بھی اپ لوڈ کی گئیں جس میں سونا چاندی اور سونے کے زیورات واضح نظر آرہے ہیں لیکن ایف آئی آر میں 50 لاکھ کے لگ بھگ مالیت کے سونے کے زیورات کا زکر بھی موجود نہیں ہے ان زیورات کو آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی اس پر تحقیقات ہونا ضروری ہے اور ممکنہ حد تک اگر ان زیورات کے غائب ہونے کی تحقیقات ہوئیں تو ہوسکتا ہے کہ ایف آئی اے مال خانے سے پرسرار گمشدہ سونا اور چاندی کی نشاندھی ہو جائے کہ اسے کون کب کیسے نکال کر لیا گیا ۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی کے اس مقدمے میں پہلے دن سے چودی کی مبینہ وارداتوں پر دائر درخواستوں پر 10 نومبر کو سندھ ہائی کورٹ میں سماعت ہے جس میں ایف آئی اے سے جواب طلب کیا جائے گا ۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی کے مال خانے سے کروڑوں روپے مالیت کی سونا اور چاندی کی چوری کے واقعہ پر ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے ڈپٹی ڈائریکٹر کائونٹر ٹیررازم ونگ اسلام آباد ہیڈ کوارٹر قمر الزمان اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ثنیہ قریشی پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کو کراچی بھیجا یاد رہے کہ ماضی میں ایف آئی اے ڈائریکٹر جنرل ساوتھ زون میں موجود افسران کے زریعے ہی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ طلب کرلیتے تھے ۔
ایف آئی اے کائونٹر ٹیررازم ونگ کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل میں رواں برس تعینات ہونے والے ڈپٹی ڈائریکٹر سے لے کر سپاہی تک سب کو نوٹس دے کر طلب کیا گیا اور ان کے بیانات ریکارڈ کئے گئے تاہم اس فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے ایف آئی اے کراچی کے تمام سرکلز کی آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت میں منتقلی سے قبل اس عمارت کے تمام دفاتر سے قیمتی سامان مبینہ طور پر چوری ہونے کی شکایات ایف آئی اے سے زبانی طور پر کی گئیں جس میں بعض دفاتر کے مالکان کو ان کے سامان کا کچھ حصہ واپس کیا گیا اس وقت کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت کی زمہ داری اس وقت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ کے پرائیوٹ شخص بلال اور سب انسپکٹر عدنان دلاور کے پاس تھی اور بیشتر کمپنیوں کے دفاتر میں سامان ان ہی دونوں افراد کی موجودگی میں واپس کیا گیا لیکن ان کمپنیوں کے قیمتی سامان غائب ہونے کے معاملے کو مبینہ طور پر دبا دیا گیا ۔یاد رہے کہ اس وقت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ کے پرائیوٹ شخص بلال کے خلاف ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں مقدمہ درج کر لیا گیا اور سب انسپکٹر عدنان دلاور 90 دن کی رخصت پر اسپین پرتگال چلے گئے اور 90 دن گزرنے کے باوجود وہ تاحال واپس نہیں آئے ہیں اور زرائع کا کہنا ہے کہ عدنان دلاور نے پرتگال کی شہریت بھی حاصل کرلی ہے ۔
ایف آئی اے کے مال خانے سے سامان چوری ہونے کے مقدمے میں گرفتار انسپکٹر ڈاکٹر سہیل شیخ محمود جمعہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا یے اس مقدمے کی تفتیش میں معلوم ہوا کہ 8 مئی کو مقدمے کے اندراج کے بعد ضبط شدہ سونا اور چاندی کو لاک تجوری میں ہی دو سے تین افراد نے ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے کمرے سے مال خانے میں منتقل کیا گیا تھا اور مبینہ طور پر اس وقت اس تجوری کو کھول کر معائنہ بھی نہیں کیا گیا اور مال خانے کے رجسٹر میں اس کا اندراج بھی نہیں کیا گیا جس پر تفتیشی افسر کی نااہلی واضح ہے ۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل میں مئی 2026 سے اکتوبر 2026 کے دوران تعینات ہونے والے ڈپٹی ڈائریکٹرز یا ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی کی بورڈ میٹنگ میں ایک بار بھی سوال نہیں ہوا کہ ایف آئی اے نے اس مقدمے میں اسمگلنگ کی دفعات شامل کی ہیں اور قانون کے مطابق اس کیس کی فائل کو ضبط شدہ مال سمیت 60 دن میں کسٹم ایڈجیوڈکیشن کے حوالے کرنا ضروری ہے لیکن اس مقدمے کو ایڈجیوڈکیشن منتقل کرنے کی بھی زحمت نہیں کی گئی۔
ایف آئی اے ہیڈکوارٹر سے آنے والی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے جس ملزم کا سونا اور چاندی تھا اس کو نوٹس ارسال کر کے طلب بھی نہیں کیا اور نا ہی اس مقدمے کے بعد عدالت میں جمع ہونے والی متفرق درخواستوں کو بھی نہیں دیکھا گیا ۔
ایف آئی اے کراچی میں ہونے والی اس انتظامی نااہلی اور مال خانے سے کروڑوں روپے مالیت کا سونا اور چاندی غائب ہونے کے بعد اس سے منسلک تمام انتظامی افسران پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور ان کی اہلیت کا امتحان ہے کہ اتنی بڑی نااہلی کیسے ہوگئی یا ملزم کی جانب سے دائر درخواستوں میں ضبط شدہ مال کو مقدمے کی دستاویزات سے باہر کرنے پر سمجھا جائے کہ ایف آئی اے کی یہ کارروائی صرف اس لئے کہ گئی کہ اسمگلنگ کی واردات کو روکنے سے بہتر ہے کہ اصل سامان غائب کردیا جائے ۔
بشکریہ روزنامہ جسارت