اے آئی سے امریکی اسٹاک ایکسچینج مزید تباہی کے دہانے پر
واشنگٹن: امریکی الیکٹرونک اسٹاک ایکسچینج نسدک سے پچھلے ماہ اکتوبر میں مصنوعی ذہانت کے مستقل خدشات نے اے آئی کمپنیوں کے حصص سے 20 کھر ب ڈالر کا سرمایہ نکالا گیا تھا، جو اب اضافے کے بعد 21 کھر ب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چند دن پہلے نسدک کمپوزٹ میں جون کے بعد حصص کی فروخت میں3 فیصد اور اس کے حجم میں تقریباً6 فیصد کمی ہو چکی ہے، جو مارچ 2025ءکے بعد سے اس کی بد ترین گراوٹ ہے، سب سے زیادہ مخدوش کمپنیوں میں گوگل کی الفابیٹ کمپنی تھی، جس کے حصص ریکارڈ بد ترین 13 فیصد گر گئے۔ گوگل کے ایگزیکٹو فلپ شِنڈلرکا ماننا ہے کہ اس کے اے آئی موڈ کی آمدنی میں بھی نمایاںکمی ہوئی۔ نیوز ایجنسیز کے مطابق کمپنی کے خالص منافع میں بھی سالانہ بنیاد پر 30 فیصد کم ہوگئی ہے اور اس کے حصص کی قیمتوں میں ہونےوالی کمی نے اس کی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً 600 ارب ڈالرکی کمی ہو چکی ہے۔
یاد رہے کہ ایمیزون نے گزشتہ سال بھی کمپنی کے اخراجات اور سرمایہ کاری کی آمدنی سے 43 ارب ڈالر زیادہ رہی، جس کی بڑی وجہ اے آئی سرمایہ کاری ہے، جو کہ اس کے حصص کی قیمتوں میں بھی 1.5 فیصد کمی واقع ہوئی۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ چپ میکر انٹیل کے حصص کی قدر میں ایک دن میں30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جو 1974 ءکے بعد سے اس کا بدترین دن قرار دیا گیا تھا۔
بشکریہ روزنامہ جسارت