جمعہ، 6 نومبر، 2026 · 27 جمادی الاول، 1448 ہجری

وزیراعظم کی ٹی ڈی اے پی کی تنظیم نو، اصلاحات کے لیے 12 ماہ کی مہلت مقرر

قومی خبریں

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی برآمدات میں اضافے، پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار سمیت مقامی صنعتوں کو عالمی برآمدی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم نے ادارے کے انتظامی ڈھانچے، کارکردگی اور خدمات میں بہتری کے لیے اصلاحات پر عمل درآمد آئندہ 12 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت ٹی ڈی اے پی کی کارکردگی اور مجوزہ اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ادارے کی موجودہ صورتحال، انتظامی ڈھانچے، کارکردگی اور عالمی سطح پر تجارتی فروغ کے جدید تقاضوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹی ڈی اے پی کو ایک مؤثر اور جدید تجارتی فروغ کے ادارے میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ پاکستانی برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے مقامی صنعتوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ جدید خطوط پر استوار ٹی ڈی اے پی اس مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا، پاکستان میں زرعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے ایک مکمل نظام تشکیل دیا جائے گا، جس میں پیداوار سے لے کر عالمی منڈیوں تک رسائی اور فروخت تک پوری ویلیو چین کو شامل کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ٹی ڈی اے پی میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے اور اچھی تربیت یافتہ افرادی قوت کو ادارے کا حصہ بنایا جائے، اداروں میں حقیقی اصلاحات اسی وقت ممکن ہیں جب ترقی اور پیشہ ورانہ کامیابی کو مقررہ اہداف کے حصول اور کارکردگی سے منسلک کیا جائے۔ انہوں نے ادارے کی کارکردگی اور مالی معاملات کے آڈٹ کے لیے اچھی شہرت رکھنے والی نجی آڈٹ فرم کی خدمات حاصل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی استعداد وسیع ہے اور ملک کا جغرافیائی محل وقوع بھی تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے موزوں ہے۔ حکومت برآمدات میں اضافے کے لیے مقامی صنعتوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کو سہولتیں فراہم کر رہی ہے تاکہ ملکی پیداواری صلاحیت اور جغرافیائی اہمیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔

اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹی ڈی اے پی کے موجودہ نظام کو مختلف انتظامی اور عملی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے باعث عالمی تجارتی منڈیوں میں پاکستان کی مصنوعات کے فروغ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر کامیاب تجارتی فروغ کے اداروں کے تقابلی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید ادارے مقامی منڈیوں کی ترقی، عالمی منڈیوں تک رسائی، برآمد کنندگان کی استعداد میں اضافے اور برآمدات کے فروغ کے لیے مربوط خدمات فراہم کرتے ہیں۔

بریفنگ میں ٹی ڈی اے پی کو عالمی معیار کے مطابق جدید ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے متعدد اصلاحات تجویز کی گئیں۔ ان میں ادارے کے دائرۂ کار کو 8 بنیادی افعال تک محدود کرنا، بورڈ اور انتظامی ڈھانچے کی تنظیمِ نو، علاقائی نیٹ ورک کو مؤثر بنانا، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور مصنوعی ذہانت کا استعمال اور کارکردگی جانچنے کے لیے قابلِ پیمائش اشاریے متعارف کرانا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ادارے کی اصلاحات اور کارکردگی کا آزادانہ جائزہ لینے کے لیے تیسرے فریق کا نظام بھی قائم کرنے کی تجویز دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مجوزہ اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے 12 ماہ کا مرحلہ وار منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس میں منظوری، ڈیزائن، نفاذ اور آزادانہ جانچ کے مراحل شامل ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اصلاحاتی عمل آئندہ برس کے وسط تک مکمل کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ منظور شدہ اقدامات محض کاغذی منصوبے تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر نافذ بھی ہوں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، جام کمال خان، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، ڈاکٹر مصدق ملک، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

بشکریہ روزنامہ جسارت