جمعہ، 6 نومبر، 2026 · 27 جمادی الاول، 1448 ہجری

معاشرے میں طلاق اورخلع کے بڑھتے رجحان کے باعث خاندانی نظام کمزور

قومی خبریں
معاشرے میں طلاق اورخلع کے بڑھتے رجحان کے باعث خاندانی نظام کمزور

کراچی: معاشرے میں طلاق اورخلع کا بڑھتا ہوا رجحان خاندانی نظام کو کمزور کررہا ہے، اس کی کیا وجوہات ہیں اور اس پر کیسے قابو پایا جاسکتا ہے۔

اس حوالے سے معروف قانونی دان فیملی کیسز کے ماہر عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے خلع اور طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجوہات پر جسارت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نےیکم اکتوبر 2002 کو پاکستان میں فیملی لاز (خاندانی قوانین) میں ایک اہم قانونی تبدیلی کی گئی تھی۔

اس ترمیم کے تحت فیملی کورٹ کو یہ اختیار دیا گیا کہ اگر فریقین کے درمیان صلح کی کوشش ناکام ہو جائے، تو عدالت خلع کی بنیاد پر ڈگری جاری کرنے کی پابند ہوتی ہے، چاہے خدارخواستہ شوہر اس پر راضی نہ ہو۔ اس آرڈیننس کے تحت فیملی عدالتوں کے نظام میں تبدیلی کی گئی، جس میں خصوصی طور پر خلع اور دیگر ازدواجی تنازعات کے مقدمات کی جلد از جلد سماعت اور فیصلہ کرنے کے لیے دفعات میں ترامیم شامل تھیں۔ قانون میں ترمیم کر کے یہ لازمی قرار دیا گیا کہ خلع کے مقدمات کا فیصلہ زیادہ سے زیادہ 6 ماہ کے اندر کیا جائے گا۔

ترمیم کے بعد یہ طریقہ کار واضح کیا گیا کہ اگر مقدمے کی پہلی پیشی یا مصالحتی مرحلے (Pre-trial Reconciliation Stage) پر بیوی شوہر کے ساتھ رہنے سے صاف انکار کر دے اور مصالحت ناکام ہو جائے، تو عدالت طویل ٹرائل کے بغیر اسی وقت (اسی دن) خلع کی ڈگری جاری کرنے کی پابند ہے۔ترمیم کے تحت خلع کی صورت میں عدالت بیوی کو حکم دیتی ہے کہ وہ شوہر سے لیا گیا حقِ مہر (اگر وصول کیا ہو) یا اس کا کچھ حصہ واپس کرے، لیکن اس شرط کی وجہ سے خلع کی ڈگری کو روکا نہیں جا سکتا۔2002 کی قانونی ترمیم سے قبل خلع گرانٹ کرنے کا عمل انتہائی سست اور پیچیدہ تھا، جب کہ اس ترمیم کے بعد عدالتوں کے لیے خلع کے کیسز کو 6 ماہ کے اندر نمٹانا اور مصالحت ناکام ہونے پر فوری خلع کی ڈگری دینا قانونی طور پر لازم قرار پایا ہے۔

عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اس ترمیم کے بعد سے خواتین اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل کو لیکر کورٹ جانا شروع کردیا،ترمیم سے پہلے خواتیں کو تھوڑی مشکلات ہوتیں تھیں شوہر اوربیوی کے درمیان مصالحت کرکے دوبارہ سے گھر بسانے کی کوشش کی جاتی تھیں تاہم اب خلع گرانٹ ہوجاتی ہے تو خواتین بڑے آرام سے خلع حاصل کرلیتں ہیں اور ترمیم کے بعد بڑی تعداد میں خلع گرانٹ کی گئی خواتین نے خلع کی درخواستیں جمع کرائی اور آسانی سے خلع بھی لیا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر خواتین کو خلع کے لیے کوئی سبب نہیں ہوتا ہے اگرخاتون کو اپنے شوہر کی شکل پسند نہیں ہے تو اس پر بھی خلع لے سکتیں ہیں خواتین کو مکمل اختیار ہے کے وہ آزادی سے خلع لے سکتی ہے۔

عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے بڑھتی ہوئی غیر ضروری قربتیں، شک و شبہات اور مجازی دنیا میں زیادہ وقت گزارنا ازدواجی تعلقات کو متاثر کر رہا ہے۔جسمانی یا ذہنی تشدد، بدزبانی اور حقوق کی عدم ادائیگی کی صورت میں خواتین قانون کا سہارا لے کر خلع کو ترجیح دیتی ہیں۔ شادی جیسے مقدس رشتے کی ذمہ داریوں سے عدم واقفیت اور جذباتی پختگی کی کمی بھی اس رجحان کو ہوا دیتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی طلاق اور خلع کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ سامنے آرہا ہے، صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ عدالتوں میں ہر ایک گھنٹے میں اوسطاً 38 خلع اور نان نفقہ کے کیسز دائر ہو رہے ہیں جن کی مجموعی تعداد یومیہ 300 سے زائد ہے۔اس تمام صورتحال نے ہمارے خاندانی نظام اور سماجی ڈھانچے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔خاندانی عدالتوں کے حالیہ دعووں کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ ڈیڑھ سال (2025 سے لے کر اکتوبر 2026 تک) کے دوران 1 لاکھ 75 ہزار سے زائد طلاق اور خلع کے معاملات سامنے آئے ہیں، جن میں سے تقریباً 70 فیصد خلع اور 30 فیصد طلاق کے کیسز شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تو وہ اعداد و شمار ہیں جو عدالتوں میں پیش ہوئے ہیں اس کے علاوہ جو پس پردہ ہیں جرگوں اور برادریوں کے درمیان حل ہونے کے لیے موجود ہیں ان کی بھی بہت بڑی تعداد ہے یہ محض طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے کیسز کی خبر نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی اور خاندانی نظام کے لیے ایک سنجیدہ سوال ہے۔پاکستان اور بالخصوص کراچی سمیت بڑے شہروں میں حالیہ برسوں کے دوران طلاق اور خلع کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ معاشرے میں برداشت کا مادہ کم ہونے، میاں بیوی کے درمیان اختلافات کے بڑھنے اور گھریلو و معاشی دباؤ سمیت مختلف عوامل کے باعث ازدواجی تنازعات میں اضافہ ہورہا ہے۔طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجوہات میں غیرضروری خواہشات، عدم برداشت، اور خاندانی نظام کی کمزوری شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ طلاق اور خلع کے کیسز میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں بیروزگاری معاشی دباؤ ازدواجی مسائل سرفہرست ہیں۔اس کے علاوہ معاشی دباؤ، بڑھتا ہوا ذہنی تناؤ، برداشت کی کمی، منشیات کا استعمال اور خواتین میں قانونی حقوق کی آگہی شامل ہیں، بعض حالات میں معمولی سے گھریلو جھگڑے بھی ان عوامل کے باعث سنگین صورت اختیار کرجاتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، عدم برداشت، گھریلو مداخلت اور میاں بیوی کے درمیان احترام اور اعتماد کی کمی نے بہت سے گھروں کا سکون چھین لیا ہے۔ لیکن ہر خلع لینے والی عورت کو قصوروار سمجھنا بھی ناانصافی ہے اور ہر طلاق دینے والے مرد کو ظالم قرار دینا بھی درست نہیں ہے۔بعض رشتے غلط فہمیوں سے ٹوٹتے ہیں اور بعض ظلم اور تشدد کی وجہ سے۔ جہاں ممکن ہو وہاں افہام و تفہیم اور مصالحت ہونی چاہیے مگر کسی کو تشدد یا ذلت برداشت کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ غیر ضروری خواہشات اور عدم برداشت طلاق اور خلع کے معاملات میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف ایک فریق سے متعلق نہیں بلکہ یہ معاشرتی، معاشی اور خاندانی عدم استحکام کی علامت ہے، خلع کے کیسز زیادہ نمایاں اس لیے نظر آتے ہیں کیونکہ یہ عدالتی کارروائی کے ذریعے ریکارڈ پر آتے ہیں، جبکہ طلاق کے بہت سے معاملات عدالت سے باہر بھی طے ہوجاتے ہیں۔

عثمان فاروق ایڈووکیٹ کا کہنا تھاکہ میاں بیوی کو اپنا گھر اور بچوں کی زندگی بچانے کیلئے چھوٹی موٹی تلخ کلامی اور باتوں کو نظرانداز کرنا چاہیے۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنا اور تحمل کے ساتھ چیزوں کو لے کر چلنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ خاندانی مشاورت، قانونی آگاہی اور معاشی تحفظ کے مؤثر نظام بنائے۔ یاد رکھیے مضبوط خاندان صرف صبر سے نہیں بلکہ انصاف، ذمہ داری اور باہمی عزت سے بنتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت