جمعہ، 6 نومبر، 2026 · 27 جمادی الاول، 1448 ہجری

ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدے کیلیے قطر کی ثالثی کوششیں تیز

قومی خبریں
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدے کیلیے قطر کی ثالثی کوششیں تیز

دوحہ: قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے، جس میں خطے میں جاری بحران کے خاتمے، کشیدگی میں کمی اور ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے قطر کی ثالثی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوسری جانب ایران نے بھی قطر کے ذریعے امریکا کو جوہری معاملے سے متعلق ایک نئی تجویز پیش کردی ہے، جس کا واشنگٹن جائزہ لے رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق قطری حکومت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے درمیان گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال اور کشیدگی ختم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر بحران کے حل اور فریقین کے درمیان کسی جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے قطر کے ثالثی کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

قطر اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے مؤقف میں موجود اختلافات کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ قطری قیادت کی جانب سے جاری سفارتی رابطوں کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران نے قطر کے ذریعے امریکا کو جوہری معاملے سے متعلق ایک تجویز پیش کی ہے، امریکی حکام اس تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں، اس حوالے سے کسی باضابطہ مذاکراتی عمل کا آغاز ابھی یقینی نہیں ہے۔

ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ باضابطہ بات چیت کی بحالی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ واشنگٹن پہلے ایران کے 7 مطالبات پورے کرے، انہوں نے ان مطالبات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجویز میں کون سی شرائط شامل ہیں۔

سفارتی حلقوں میں قطر کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کے تبادلے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام اور علاقائی صورتحال پر اختلافات کے باعث براہ راست مذاکرات کی بحالی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

قطر کی ثالثی کوششوں کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانا، کشیدگی میں کمی کے لیے قابل قبول راستہ تلاش کرنا اور ایک ایسے جامع معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے جس سے خطے میں جاری بحران کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

ایران کی جانب سے امریکا کے سامنے 7 مطالبات رکھے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے دونوں ممالک کو اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرنا ہوگی، ٹرمپ اور قطری امیر کے درمیان رابطے اور ایران کی نئی تجویز پر واشنگٹن کے جائزے کے بعد اب سفارتی کوششوں کے اگلے مرحلے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت