جمعہ، 6 نومبر، 2026 · 27 جمادی الاول، 1448 ہجری

48 کروڑ کا پروجیکٹ ادھورا، اورنگی تا بلدیہ فقیر کالونی سڑک کھنڈر بن گئی، ٹھیکیدار سامان سمیٹ کر فرار!

قومی خبریں

کراچی : میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی براہِ راست نگرانی اور اپروول سے شروع ہونے والا 48 کروڑ روپے کی بھاری رقم کا ترقیاتی پروجیکٹ اورنگی ٹاون اور مومن آباد کے شہریوں کے لیے عذابِ جان بن گیا۔

مومن آباد تھانے سے شروع ہونے والا بدر روڈ فقیر کالونی (اورنگی تا بلدیہ) کو جوڑنے والی سڑک کا کام چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہو سکا، جبکہ گزشتہ ایک ماہ سے ٹھیکیدار پراسرار طور پر اپنا تمام سامان، بھاری مشینری اور کنٹینر لے کر موقع سے فرار ہو چکا ہے، جس سے پروجیکٹ کی شفافیت پر شدید سوالات اٹھ گئے ہیں۔پروجیکٹ کی نامکمل اور ناقص تعمیرات کے باعث الفتح کالونی، اورنگی ٹاون اور مومن آباد کی لاکھوں کی آبادی گزشتہ چھ ماہ سے اپنے ہی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی ہے۔

100 فٹ چوڑی سڑک کے بالکل درمیان میں ایک ہزار فٹ طویل نالہ کھود کر کھلا چھوڑ دیا گیا ہے اور نالے سے نکلنے والی ہزاروں ٹن مٹی سڑک کے بیچوں بیچ ڈھیر کر دی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف سڑک پر قائم سینکڑوں دکانیں اور کاروباری مراکز مکمل طور پر ٹھپ ہو چکے ہیں بلکہ علاقے کے تاجر نانِ نفقین کو محتاج ہو گئے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی تباہ حالی اور گہرے کھڈوں کی وجہ سے بچوں کا اسکول جانا اور خواتین کی آمدورفت انتہائی دشوار ہو چکی ہے۔

علاقے میں تنگ گلیوں کی وجہ سے گاڑیوں اور ایمبولینسز کا داخلہ بھی بند ہو چکا ہے، جس کے باعث غمی یا خوشی کی کسی تقریب کا انعقاد ناممکن بن چکا ہے۔ شہریوں کو علاقے سے باہر نکلنے کے لیے ایک کلومیٹر کا طویل اور دشوار گزار چکر کاٹنا پڑ رہا ہے۔اہلِ علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ سڑک، نالے اور گٹر لائنوں کی تعمیرات کے لیے 48 کروڑ روپے سے زائد کی بھاری رقم مختص کی گئی تھی، لیکن چھ ماہ گزرنے کے بعد بھی سڑک ناگفتہ بہ ہے۔ نالے اور گٹر لائنوں کا جو کام کیا بھی گیا، وہ بھی ناقص مٹیریل اور گھٹیا تعمیرات کے باعث ابھی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے، جو سرکاری فنڈز کے بدترین ضیاع اور مبینہ کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں پانی کی فراہمی یا بارش کی صورت میں اگر اس کھلے نالے میں پانی بھر گیا تو یہ ایک خوفناک “موت کا کنواں” ثابت ہوگا۔ سو فٹ روڈ پر کھلا چھوڑا گیا ہزار فٹ کا گہرا نالہ کئی قیمتی انسانی جانوں کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکا ہے، لیکن انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی برقرار ہے۔

شہریوں نے گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے حال ہی میں اسی علاقے کے قریب ضیاء ہائیڈرینٹ کی نئی موٹروں اور ہائیڈرینٹ کا نام تبدیل کر کے “آفاق خان شاہد” کے نام پر رکھنے کی افتتاحی تقریب میں تو بڑی شان و شوکت سے شرکت کی، لیکن انہیں اپنی ہی اپروول سے بننے والی اور شہریوں کا جینا حرام کرنے والی اس تباہ حال سڑک کا دورہ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔

متاثرہ شہریوں اور تاجروں نے اعلیٰ حکام، نیب اور میئر کراچی سے پرزور اپیل کی ہے کہ اس نامکمل اور ناقص پروجیکٹ کا فوری نوٹس لیا جائے، فرار ٹھیکیدار کو واپس بلا کر کام کی معیاری اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ اورنگی اور بلدیہ کی لاکھوں کی آبادی اس عذاب سے نجات پا سکے اور ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت