جمعہ، 6 نومبر، 2026 · 27 جمادی الاول، 1448 ہجری

وافی انرجی کا 13واں تعمیر ایوارڈز: پاکستانی کاروباری نوجوانوں کی صلاحیتوں کا اعتراف

قومی خبریں

کراچی : پاکستان بھر میں نوجوان کاروباری افراد نت نئے مسائل کے حل اور مواقع پیدا کرنے کے لیے جدت پر مبنی اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کی کاوشوں کو سراہنے کے لیے وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ (WEPL) کے زیرِ اہتمام 13ویں تعمیر ایوارڈز 2026 کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے کاروباری افراد نے شرکت کرتے ہوئے اپنے خیالات اور کاروباری منصوبے پیش کیے۔

اس سال تعمیر ایوارڈز کے لیے 700 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 450 سے زیادہ تھی، جو کاروبار اور جدت میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔ درخواستوں کے جائزے کے بعد چھ شعبوں، سرکلر اکانومی (Circular Economy)، صاف توانائی کے حل (Clean Energy Solutions)، خواتین کو بااختیار بنانا (Empowering Women)، ٹیکنالوجی میں جدت (Technology Innovation)، نقل و حمل اور نقل و حرکت (Transportation & Mobility) اور منفرد خیالات (Bright Ideas) میں 30 حتمی امیدواروں کا انتخاب کیا گیا۔

حتمی امیدواروں نے اپنے جدید کاروباری منصوبے اور مسائل کے حل پر مبنی تجاویز پاکستان کے کارپوریٹ، کاروباری، سرمایہ کاری اور تعلیمی شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین پر مشتمل ججوں کے پینل کے سامنے پیش کیں۔ ججوں نے ہر منصوبے کی کاروباری صلاحیت اور حقیقی مسائل حل کرنے کی استعداد کا جائزہ لیتے ہوئے چھوں شعبوں میں کامیاب امیدواروں اور رنرز اَپ کا انتخاب کیا۔

اس موقع پر وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زبیر شیخ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئےکہا، ’’پاکستان کی مستقبل کی معاشی ترقی کا انحصار کسی حد تک ایسے نوجوان کاروباری افراد پر ہوگا جو حقیقی مسائل حل کرنے اور نئے مواقع پیدا کرنے والے کاروبار قائم کریں گے۔ اس سال کے حتمی امیدواروں کی صلاحیت اور عزم نے ملک کے مستقبل کے حوالے سے ہمارے اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ نوجوانوں کی اس صلاحیت کو پروان چڑھانے میں سرمایہ کاری پر یقین رکھتا ہے۔ کاروباری افراد کو مہارت، روابط اور مواقع فراہم کرکے ہمارا مقصد باصلاحیت نوجوانوں اور ان کے کاروباری منصوبوں کو ترقی کے مواقع دینا اور پاکستان کے لیے دیرپا قدر پیدا کرنے میں ان کی مدد کرنا ہے۔‘‘

وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کے ڈائریکٹر ریٹیل حبیب حیدر نے کہا، ’’اس سال ہمیں پاکستان بھر سے 700 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 450 سے زیادہ تھی، جو کاروبار اور جدت میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اظہار ہے۔ حتمی امیدواروں کے پیش کردہ متنوع خیالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان پاکستانی توانائی، ٹیکنالوجی، پائیداری اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں نئے حل تلاش کر رہے ہیں۔ تعمیر ایوارڈز انہیں اپنے کام کو پیش کرنے، صنعتی شعبے کے رہنماؤں سے سیکھنے اور اپنے کاروبار کو آگے بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کا موقع فراہم کرتے ہیں۔‘‘

13ویں تعمیر ایوارڈز 2026 کے فاتحین کا اعلان چھ مختلف شعبوں میں کیا گیا، جن میں مختلف مسائل کے حل پیش کرنے والے اختراعی کاروباری منصوبوں کو سراہا گیا۔کلین انرجی سلوشنز کے شعبے میں شوکت حسین کو ’آس سماک فارم ایس ایم سی پرائیویٹ لمیٹڈ‘ (As Sammak Farm SMC Private Limited) کے لیے ایوارڈ دیا گیا۔ یہ ایک پائیدار مچھلی فارمنگ کا کاروبار ہے، جو بائیوفلاک ٹیکنالوجی کے ذریعے پانی اور توانائی کی کھپت کم کرنے کے ساتھ میٹھے پانی کے قدرتی وسائل پر دباؤ گھٹاتے ہوئے مچھلی کی پیداوار بہتر بناتا ہے۔ اس شعبے میں مجتبیٰ بلال کے کاروبار ’کوانٹیفائی‘ (Quantify) نے رنر اَپ کا اعزاز حاصل کیا۔

سرکلر اکانومی کا ایوارڈ ذاکر حسین کو ’ایچ اے ایس ہینڈی کرافٹس‘ (HAS Handicrafts) کے لیے دیا گیا، جو ٹیکسٹائل کے ضائع شدہ کپڑے اور دیگر ناکارہ مواد کو پائیدار فیشن اور روزمرہ استعمال کی مصنوعات میں تبدیل کرنے کے ساتھ دستکاروں کے روزگار اور روایتی ہنر کے تحفظ میں بھی معاون ہے۔ اس شعبے میں صالحہ شاہ کے کاروبار ’رینٹ اٹ‘ (Rent It) نے رنر اَپ کا اعزاز حاصل کیا۔

خواتین کو بااختیار بنانے کے شعبے میں سحرش وقاص کو ’داستانِ رُماں‘ (Dastaan-e-Rumaan) کے لیے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ ادارہ مشکل سے دوبارہ قابلِ استعمال بننے والی پلاسٹک پیکیجنگ کو مضبوط بُنی ہوئی مصنوعات میں تبدیل کرکے خواتین دستکاروں کو بااختیار بنانے، ان کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور روایتی کھڈی کے ہنر کو محفوظ رکھنے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ اس شعبے میں ڈاکٹر خولہ عبدالصبور کے ادارے ’دی پلے کمپنی‘ (The Play Co) نے رنر اَپ کا اعزاز حاصل کیا۔

برائٹ آئیڈیاز کے شعبے میں ڈاکٹر عثمان علاؤالدین کو ’پاک ہائیڈرو – انڈیجنس پاکستانز ہائیڈروجن جنریشن سسٹم‘ (PAKHYDRO – Indigenous Pakistan’s Hydrogen Generation System) کے لیے فاتح قرار دیا گیا۔ یہ الیکٹرولائسز (Electrolysis) کے ذریعے ہائیڈروجن تیار کرنے کا کم لاگت اور مقامی سطح پر تیار کردہ نظام ہے۔ اس شعبے میں شوال زاہد کے ادارے ’علاج گھر‘ (Elaj Ghar) نے رنر اَپ کا اعزاز حاصل کیا، جس نے انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) پر مبنی طبی آلات تیار کیے ہیں، جو مریضوں کی دور سے نگرانی اور صحت کی سہولتوں تک رسائی بہتر بنانے میں معاون ہیں۔

ٹیکنالوجی میں جدت کے شعبے میں محمد اسامہ امین کو ’وی ایم نیبولا (ایس ایم سی پرائیویٹ) لمیٹڈ‘ (VM Nebula (SMC-Private) Limited) کے لیے ایوارڈ دیا گیا۔ اس کا پلیٹ فارم ’سرکٹ‘ (Sarkit) اے آئی اور آواز کے ذریعے کام کرنے والے ریٹیل مینجمنٹ نظام پر مبنی ہے، جو روایتی بازاروں کے تاجروں کو روزمرہ گفتگو کے ذریعے پیچیدہ اسٹاک اور اشیا کے ذخیرے کا انتظام کرنے میں مدد دیتا ہے، یوں چھوٹے کاروباروں کے لیے ڈیجیٹل تجارت کو مزید آسان بناتا ہے۔ اس شعبے میں ارسلان احمد کے ادارے ’سیورون اے آئی انک‘ (Sayvron AI Inc) نے رنر اَپ کا اعزاز حاصل کیا۔

نقل و حمل اور نقل و حرکت کے شعبے میں آتھر ندیم کو ’سرائے بائی تھنگسٹی‘ (Sarai by Thingsty) کے لیے ایوارڈ دیا گیا۔ یہ پاکستان کا اسمارٹ الیکٹرک وہیکل چارجنگ پلیٹ فارم ہے، جو الیکٹرک گاڑیوں کے مالکان کو چارجنگ اسٹیشن تلاش کرنے، اپنی گاڑی کے مطابق سفر کی منصوبہ بندی کرنے اور ایک مربوط آئی او ٹی (IoT) نظام کے ذریعے ایپ پر چارجنگ کی سہولت حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس شعبے میں عبدالمتین کے ادارے ’نیوویکس پرائیویٹ لمیٹڈ‘ (NUVEX (Private) Limited) نے رنر اَپ کا اعزاز حاصل کیا۔

تعمیر ایوارڈز کا 13واں ایڈیشن نوجوان کاروباری افراد کی معاونت کی دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط روایت کا تسلسل ہے۔ اس پروگرام کے آغاز سے اب تک 1,200 سے زائد اسٹارٹ اَپس کی معاونت کی جا چکی ہے، جبکہ کاروبار کے فروغ سے متعلق مختلف اقدامات کے ذریعے 15 لاکھ سے زائد نوجوان پاکستانیوں تک رسائی حاصل کی گئی ہے۔ ہر سال اس پروگرام کے تحت باصلاحیت کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور انہیں اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر کاروباری روابط بڑھانے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ وہ اپنے خیالات کو پائیدار کاروبار میں تبدیل کرکے پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور ایک مضبوط کاروباری ماحول کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت