کراچی کی تباہ حال سڑکیں حکومتی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت، ترجمان سندھ الزام تراشی میں مصروف
کراچی: ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا اپنے ٹاؤنز کی ناکامیوں کا ملبہ میئر کراچی پر ڈالنا سیاسی فرار کے سوا کچھ نہیں، سندھ حکومت کے دعوؤں اور عملی کارکردگی کے درمیان بھی واضح فرق نظر آ رہا ہے۔ کراچی میں ترقیاتی کاموں کے نام پر شہر کی بیشتر سڑکیں کھدی ہوئی ہیں، شہری ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور ٹریفک کی بدترین صورتحال سے پریشان ہیں لیکن شہری مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے میں مصروف ہیں۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ ضلع وسطی کے 9 ٹاؤنز جماعت اسلامی کے پاس ہیں، انہیں تبدیلی لانے سے کس نے روکا ہے؟ جمہوری عمل کے ذریعے منتخب ہونے والے میئر کو جعلی قرار دینے والے پہلے اپنی صفوں میں جمہوریت تلاش کریں۔
سعدیہ جاوید نے کہا کہ ماضی کی تاریخ دہرانے کے بجائے حافظ نعیم الرحمن اپنے ٹاؤن چیئرمینز کی حالیہ کارکردگی پر بات کریں۔ سرکاری اسکولوں کی فکر چھوڑ کر جماعت اسلامی کے زیر انتظام ٹاؤنز میں کچرا اٹھانے اور سڑکوں کی صورتحال دیکھیں، سندھ حکومت فنڈز فراہم کر رہی ہے لیکن جماعت اسلامی کے نمائندوں کے پاس کام کرنے کی اہلیت نہیں۔ الزام تراشی کی سیاست سے ووٹ نہیں ملتے، عوام اب کھوکھلے بیانات کے بجائے عملی کام دیکھنا چاہتے ہیں۔
ترجمان سندھ حکومت نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے نظام پر تنقید کرنے والے خود اسی نظام کے تحت ٹاؤن چیئرمین بن کر بیٹھے ہیں۔ کراچی کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ جماعت اسلامی کی قیادت کی بے حسی ہے۔ مخالفت برائے مخالفت کی سیاست ختم کرکے شہر کی خدمت میں میئر کراچی کا ساتھ دیا جائے۔
دوسری جانب سندھ حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کی کارکردگی پر سوالات اٹھانے کے باوجود کراچی کی زمینی صورتحال حکومتی دعوؤں پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ شہر قائد میں ترقیاتی کاموں کے نام پر سڑکوں کی کھدائی اور طویل عرصے سے نامکمل منصوبوں نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ شہر کے متعدد علاقوں میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جگہ جگہ کھدائی کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے اور شہریوں کو روزانہ آمدورفت میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ضلع وسطی میں فور کے چورنگی سے چونگی تک اور اجمیر نگری تھانے سے بابا موڑ تک سڑک کی خستہ حالی شہریوں کے لیے مسلسل اذیت کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ان سڑکوں پر سفر کرنے والے شہریوں کو ٹوٹ پھوٹ، گڑھوں اور خراب راستوں کے باعث مشکلات کا سامنا ہے جبکہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔ ان اہم شاہراہوں کی خراب حالت کے باوجود تاحال شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دے رہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک دوسرے پر ذمہ داریاں ڈالنے اور الزام تراشی کے بجائے کراچی کے بنیادی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سندھ حکومت شہر میں ترقیاتی کاموں اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے اپنی کارکردگی دکھانے کے بجائے سیاسی بیانات اور دعوؤں تک محدود نظر آتی ہے۔ کراچی کی سڑکوں، نکاسی آب، صفائی اور دیگر شہری مسائل کا حل محض بیانات سے ممکن نہیں، اس کے لیے عملی اقدامات اور منصوبوں کی بروقت تکمیل ضروری ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت