جمعرات، 5 نومبر، 2026 · 26 جمادی الاول، 1448 ہجری

گردوں کی صحت برقرار رکھنے میں مددگار پھل کون سے ہیں؟

قومی خبریں
گردوں کی صحت برقرار رکھنے میں مددگار پھل کون سے ہیں؟

گردے انسانی جسم کے اہم ترین اعضا میں شمار ہوتے ہیں جو خون سے فاسد اور زہریلے مادوں کو الگ کرکے انہیں جسم سے خارج کرنے کا کام انجام دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق روزمرہ خوراک میں انار کو شامل کرنا گردوں کی صحت برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ یہ پھل ایسے قدرتی اجزا سے بھرپور ہے جو جسم میں ورم اور خلیات کو پہنچنے والے نقصان کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔

گردوں کا بنیادی کام خون میں موجود فاسد مادوں اور اضافی پانی کو چھان کر پیشاب کے ذریعے جسم سے باہر نکالنا ہے۔ اس کے علاوہ یہ جسم میں پوٹاشیم، سوڈیم اور دیگر ضروری معدنی اجزا کی مقدار متوازن رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گردے ایسے ہارمونز بھی خارج کرتے ہیں جو فشار خون کو قابو میں رکھنے اور ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر 10 میں سے ایک شخص گردوں کے دائمی مرض میں مبتلا ہے۔ اس بیماری کے نتیجے میں گردوں کی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے اور جسم میں اضافی سیال سمیت نقصان دہ مادوں کا اخراج مناسب طریقے سے نہیں ہو پاتا، جس سے مختلف پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کی توجہ انار پر مرکوز ہے، جو قدرتی طور پر مانع تکسید اجزا سے بھرپور پھل ہے۔ یہی خصوصیات اسے گردوں کی صحت کے حوالے سے ہونے والی طبی تحقیقات کا اہم موضوع بناتی ہیں۔ تاہم انسانوں پر اس سلسلے میں ہونے والی تحقیق ابھی محدود ہے اور اس کے فوائد کی مکمل تصدیق کے لیے مزید مطالعات درکار ہیں۔

انار میں موجود قدرتی اجزا گردوں کو کیسے تحفظ دیتے ہیں؟

طبی تحقیقات کے مطابق انار میں کئی ایسے حیاتیاتی مرکبات پائے جاتے ہیں جو جسم میں سوزش کی کیفیت کم کرنے اور خلیات کو نقصان دہ اثرات سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان میں ایلاجک ایسڈ، گیلیک ایسڈ، پونیکالاگن اور اینتھوسائننز نمایاں ہیں۔

یہ مرکبات جسم میں گردش کرنے والے مضر مادوں کے اثرات سے خلیات کو پہنچنے والے نقصان کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ماہرین کا خیال ہے کہ انار کا استعمال بعض ادویات، کیمیائی مادوں اور بھاری دھاتوں کے باعث گردوں کو پہنچنے والے نقصان کی شدت کم کرنے میں معاون ہوسکتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ انار میں موجود قدرتی اجزا گردوں کے اندر سوزش کو کم کرنے اور خلیاتی نقصان کی روک تھام میں مدد دیتے ہیں، جس سے گردوں کی مجموعی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ انار کھانے سے گردوں کی صفائی کا عمل یقینی طور پر بہتر ہوجاتا ہے یا یہ پھل گردوں کے امراض کا علاج کرسکتا ہے۔

گردوں کے مریض انار کھاتے وقت احتیاط کریں

اگرچہ انار عام طور پر صحت مند افراد کے لیے محفوظ پھل سمجھا جاتا ہے، تاہم گردوں کے دائمی امراض میں مبتلا افراد اور بلند فشار خون کے مریضوں کو اس کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ایسے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی غذا میں انار شامل کرنے سے پہلے معالج سے مشورہ کریں تاکہ ان کی صحت اور جسمانی ضروریات کے مطابق مناسب مقدار کا تعین کیا جاسکے۔

اس احتیاط کی بنیادی وجہ انار میں موجود پوٹاشیم کی نسبتاً زیادہ مقدار ہے۔ گردوں کی کارکردگی متاثر ہونے کی صورت میں جسم سے اضافی پوٹاشیم خارج کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے، جس کے باعث یہ معدنی جزو خون میں جمع ہونے لگتا ہے۔

خون میں پوٹاشیم کی مقدار غیر معمولی حد تک بڑھنے سے پٹھوں کی کمزوری سمیت دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی اور دیگر سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اسی لیے گردوں کے مریضوں کو انار سمیت پوٹاشیم سے بھرپور غذاؤں کا استعمال اپنی طبی کیفیت اور ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق کرنا چاہیے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت