آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کے تمام احکامات معطل کردیے

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کو ایم پی او کے تحت ہونے والی گرفتاریوں سے متعلق تمام مقدمات اور اپیلوں کی مزید سماعت سے روک دیا۔
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم 2 رکنی بینچ نے گورنرراج کے نتیجے میں قائم صوبائی حکومت کی جانب سے دائر کردہ اپیلوں پر ابتدائی سماعت کے بعد یہ اہم حکم نامہ جاری کیا۔
اطلاعات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے ایم پی او کے تحت حراست میں لیے گئے متعدد سیاسی کارکنان اور رہنمائوں کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے گئے تھے، جس پر وفاق اور صوبائی انتظامیہ نے آئینی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
اسی لیے صوبائی حکومت نے ایم پی او کی دفعات کے تحت سیاسی و انتظامی بنیادوں پر کی جانے والی گرفتاریوں کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کے مختلف احکامات اور ریلیف کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر رکھا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت میں دورانِ سماعت چیف جسٹس امین الدین خان نے کیس کا جائزہ لیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالت اس حساس اور اہم معاملے پر تمام متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹسز جاری کر رہی ہے تاکہ ان کا موقف سامنے لایا جا سکے۔
مقدمے سے متعلق دیگر فریقین بھی اس عدالتی حکم اور آئینی نکات کا بغور جائزہ لینے کے بعد اپنی اپنی آئینی درخواستیں عدالت عالیہ کے سامنے دائر کرنے کے لیے آزاد ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت