پاکستان اور روس کا ٹیکنالوجی تعاون عملی کاروباری شراکت داری میں تبدیل کرنے پر اتفاق

اسلام آباد: پاکستان اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو عملی کاروباری معاہدوں میں تبدیل کرنے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
دونوں ممالک کی حکومتوں، صنعتی تنظیموں اور معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری اور نئی منڈیوں تک رسائی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) اور ماسکو کی یونیورسٹی آف ورلڈ سویلائزیشنز کے اشتراک سے پاکستان اور روس کے درمیان آئی ٹی تعاون کے موضوع پر ویبینار منعقد ہوا۔ پاکستان اور روس ویبینار سیریز کے تیسرے اجلاس میں دونوں ممالک کے وزراء، صنعتی نمائندوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں نے شرکت کی۔
پی ایس ای بی اور ماسکو کی یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز کے اشتراک سے پاکستان اور روس کے درمیان آئی ٹی تعاون کے موضوع پر ویبینار منعقد ہوا۔ 5 نومبر 2026 کو اسلام آباد میں وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے دفتر میں ہونے والے اس اجلاس میں روسی شرکا نے ماسکو سے آن لائن شرکت کی۔
پاکستان اور روس ویبینار سیریز کے تیسرے اجلاس میں وفاقی وزراء، حکومتی حکام، صنعتی نمائندوں اور دونوں ممالک کی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے شرکت کی۔ ویبینار کا مقصد دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان براہِ راست کاروباری روابط قائم کرنا اور مشترکہ منصوبوں کے لیے عملی مواقع تلاش کرنا تھا۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان اور روس کا تعاون جدت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کو فروغ دے سکتا ہے۔ دونوں ممالک کو روایتی تعاون سے آگے بڑھ کر ٹیکنالوجی پر مبنی مشترکہ منصوبوں، کاروباری شراکت داری اور عالمی منڈیوں میں مقابلے کی صلاحیت رکھنے والی مصنوعات کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئی ٹی شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور ملک میں ہر سال 75 ہزار سے زائد آئی ٹی گریجویٹس تیار ہو رہے ہیں۔ پاکستان کا ہدف 2030 تک 10 لاکھ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ماہرین تیار کرنا اور تحقیق و صنعت کے درمیان روابط مضبوط بنانے کے لیے سات نئے اے آئی مراکز قائم کرنا ہے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ روس کی سائنسی اور انجینئرنگ صلاحیتوں کو پاکستان کے ہنرمند انسانی وسائل اور آئی ٹی خدمات کے تجربے کے ساتھ ملا کر مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل گورننس کے شعبوں میں باہمی فائدے کے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔
ویبینار میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے لیے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل گورننس، آئی ٹی تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل مہارتوں کے تبادلے اور کوانٹم کمپیوٹنگ سمیت اہم شعبوں پر گفتگو ہوئی۔
اجلاس میں پاکستانی کمپنیوں ایبرکس اور ٹی ایم سی گروپ کے نمائندوں نے روس کی کمپنی پازیٹو ٹیکنالوجیز اور رشین کوانٹم سینٹر کے نمائندوں کے ساتھ مشترکہ مصنوعات اور خدمات کی تیاری، سائبر سیکیورٹی، مالیاتی ٹیکنالوجی اور جدید ڈیجیٹل نظاموں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا۔
بشکریہ روزنامہ جسارت