جمعرات، 5 نومبر، 2026 · 26 جمادی الاول، 1448 ہجری

امریکی قیادت ہارنے والے جواری کی طرح بازی چھوڑنے کو تیار نہیں: باقر قالیباف

قومی خبریں
امریکی قیادت ہارنے والے جواری کی طرح بازی چھوڑنے کو تیار نہیں: باقر قالیباف

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی قیادت ایران کے خلاف جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہی ہے اور شکست کے باوجود میدان چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کو اپنی پالیسی میں اولین ترجیح دے کر خود کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

باقر قالیباف نے یہ ردعمل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری بیان پر دیا۔ ایرانی اسپیکر نے امریکی نائب صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ طویل تقریریں کرنے کے بجائے انہیں اپنے صدر کو سمجھانا چاہیے کہ موجودہ پالیسیوں کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے امریکی قیادت کے رویے کو ہارے ہوئے جواری سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ شکست کے بعد بھی بازی چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہونا خطرناک طرزِ عمل ہے۔ ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کو مزید آگے بڑھانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن جماعت کی شکست پر اپنے ردعمل میں اعتراف کیا تھا کہ ایران جنگ بھی انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے والے عوامل میں شامل رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ایران جنگ کے باعث جماعت کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔

جے ڈی وینس کے مطابق انتخابی نتائج توقعات کے برعکس سامنے آئے، جس سے ری پبلکن جماعت کو شدید دھچکا پہنچا۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور ملک میں مہنگائی کو بھی شکست کی اہم وجوہات قرار دیا اور کہا کہ انتخابی ناکامی کے بعد پارٹی کو اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔

امریکی نائب صدر نے انتخابی شکست کی ذمہ داری ووٹرز کی کم شرکت پر ڈالنے کو بھی درست قرار نہیں دیا۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان سابق حامیوں کی ناراضی ہے جنہوں نے اس مرتبہ جماعت کا ساتھ نہیں دیا۔

جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ ری پبلکن جماعت کی انتخابی ناکامی کے بعد پارٹی کے اندر پالیسیوں اور سیاسی حکمت عملی پر نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔ ان کے بیان کے بعد ایران جنگ اور اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی ایک مرتبہ پھر امریکی سیاسی حلقوں میں زیر بحث آگئی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت