جمعرات، 5 نومبر، 2026 · 26 جمادی الاول، 1448 ہجری

مریم کی کرپشن کےخلاف زیروٹالرنس پالیسی ہے،عظمیٰ بخاری

قومی خبریں
مریم کی کرپشن کےخلاف زیروٹالرنس پالیسی ہے،عظمیٰ بخاری

لاہور: صوبائی وزیرِ اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ماضی کے برعکس وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا گورننس کا ماڈل بالکل مختلف اور منفرد ہے، جہاں افسران کی تقرریوں اور تعیناتیوں کا پورا عمل شفاف رکھا گیا ہے۔

اب تمام افسران کے انٹرویو مریم نواز خود کرتی ہیں اور تقرریاں بھی خود ہی کرتی ہیں۔ ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں سرکاری افسران کی تعیناتیوں کا نظام سیاسی سفارشات اور ذاتی مفادات کے گرد گھومتا تھا۔

ارکانِ اسمبلی اپنی مرضی کے اسسٹنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ایس ایچ اوز، تحصیلداروں اور پٹواریوں کو تعینات کرواتے تھے تاکہ انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس روایت کے برعکس میرٹ اور شفافیت پر مبنی گورننس کا نظام متعارف کروایا جہاں تمام افسران کے وہ خود انٹرویو کرتی ہیں اور تقرریاں بھی خود ہی کرتی ہیں، پنجاب کابینہ کے کسی بھی رکن یا کسی سیاسی شخصیت کے پاس کسی افسر کی پسندیدہ تعیناتی کروانے کا کوئی اختیار نہیں۔

وزیراعلیٰ کی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی بالکل واضح اور دوٹوک ہے۔وفاقی وزیر چودھری سالک حسین کے الزامات پر ردِعمل دیتے ہوئے صوبائی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ جمہوریت میں سب کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے لیکن آزادی کے نام پر کردار کشی کرنا، جھوٹے الزامات لگانا اور پروپیگنڈا کرنا درست نہیں۔

چودھری سالک حسین نے آزادیِ رائے کا اظہار نہیں کیا بلکہ باقاعدہ کرپشن کے سنگین الزامات عائد کیے اور بعد میں خود ہی تسلیم کیا کہ ان کے پاس کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔

اس لیے انہیں قانونی طریقہ کار کے تحت نوٹس سرو کیا گیا، اب انہیں قانونی فورم اور عدالت میں اپنے دعوئوں کو ثبوتوں کے ساتھ درست ثابت کرنا ہو گا۔

عظمیٰ بخاری نے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے ہمیشہ اپنے اتحادیوں کو احترام کے ساتھ ساتھ رکھا ہے اور چودھری سالک حسین آج بھی وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں۔

اتحادی رہنمائوں سے سیاسی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی توقع کی جاتی ہے، جب الزامات پر وضاحت طلب کی گئی تو انہوں نے سنجیدہ جواب کے بجائے غیر مناسب رویہ دکھایا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت