امریکا کا مشرقِ وسطیٰ میں دفاعی صلاحیت بڑھانے کا فیصلہ، 25 ہزار سے زائد ڈرون اور انسدادِ ڈرون نظام تعینات

امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی قوت اور دفاعی صلاحیت میں اضافے کے لیے بڑے پیمانے پر جدید بغیر پائلٹ فضائی اور بحری نظام تعینات کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت امریکی افواج کو 25 ہزار سے زائد ڈرون اور انہیں روکنے والے دفاعی نظام فراہم کیے گئے ہیں، جن کا بنیادی مقصد خطے میں تعینات امریکی فوجیوں کو ممکنہ ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
امریکی محکمہ جنگ کے مطابق اس مقصد کے لیے امریکی سینٹرل کمانڈ کو 78 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کا جدید جنگی سازوسامان فراہم کردیا گیا ہے۔ اس دفاعی پیکیج میں جدید بغیر پائلٹ فضائی اور بحری نظام شامل ہیں، جنہیں مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں اور دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
محکمہ جنگ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق امریکی افواج کو 24 ہزار سے زائد ڈرون شکن نظام فراہم کیے گئے ہیں، جن کے ساتھ 1300 سے زیادہ حملہ آور ڈرون بھی پہنچا دیے گئے ہیں۔ ان جدید نظاموں کے ذریعے ایک جانب دشمن کے بغیر پائلٹ طیاروں اور ڈرونز کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا تو دوسری جانب امریکی فوج کو اپنی کارروائیوں کے لیے جدید فضائی ذرائع بھی دستیاب ہوں گے۔
منصوبے کے تحت امریکی فوج کو صرف فضائی نظام ہی فراہم نہیں کیے گئے بلکہ 100 سے زائد بغیر پائلٹ بحری اور زیرِ آب گاڑیاں بھی حوالے کی گئی ہیں۔ یہ جدید آلات سمندر کی سطح اور زیرِ آب مختلف فوجی سرگرمیوں میں استعمال کیے جاسکیں گے، جس سے امریکی افواج کی بحری نگرانی اور دفاعی صلاحیت کو مزید تقویت ملنے کا امکان ہے۔
امریکی محکمہ جنگ کا کہنا ہے کہ جدید جنگی سازوسامان کی فراہمی کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجیوں کو ڈرون حملوں کے خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔ خطے میں بغیر پائلٹ طیاروں کے بڑھتے ہوئے فوجی استعمال کے پیش نظر ان کی نشاندہی اور روک تھام کے لیے جدید دفاعی نظام کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں اس منصوبے کے تحت جنگی سازوسامان کی فراہمی کے بعد اسے دیگر خطوں تک بھی وسعت دی جائے گی۔ آئندہ مرحلے میں بحرالکاہل اور یورپ میں تعینات امریکی افواج کو بھی اسی نوعیت کے جدید دفاعی اور جنگی آلات فراہم کیے جائیں گے، جس کا مقصد مختلف خطوں میں امریکی فوج کی دفاعی تیاریوں اور جنگی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت