جمعرات، 5 نومبر، 2026 · 26 جمادی الاول، 1448 ہجری

بھارت میں فصلوں کی باقیات جلانے کے باعث پاکستان سمیت پورے خطے کی فضا زہر آلود

قومی خبریں
بھارت میں فصلوں کی باقیات جلانے کے باعث پاکستان سمیت پورے خطے کی فضا زہر آلود

بھارت میں فصلوں کی باقیات جلانے اور صنعتی سرگرمیوں کے باعث فضائی آلودگی پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے سنگین ماحولیاتی خطرہ بن گئی۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق بھارت سے آنے والی آلودہ فضا نے پاکستان کے مختلف علاقوں، خصوصاً لاہور، بالائی پنجاب اور سرحدی اضلاع میں فضائی معیار کو خطرناک حد تک متاثر کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی فضائی آلودگی خلا سے بھی واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ ناسا کے موڈس اور وی آئی آئی آر ایس سینسرز جبکہ یورپی خلائی ایجنسی کے سینٹینل سیٹلائٹس نے بھی بھارتی فضا میں آلودگی کی مسلسل موجودگی کی نشاندہی کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سردیوں میں فضائی آلودگی بڑھنے کی بڑی وجہ بھارت میں فصلوں کی باقیات جلانا ہے۔ بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں پرالی جلانے سے اٹھنے والا زہریلا دھواں سب سے پہلے پاکستانی سرحدی علاقوں کو متاثر کرتا ہے۔ جغرافیائی قربت کے باعث بھارتی کسانوں کی جانب سے فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات کا براہ راست اثر پاکستانی پنجاب کے فضائی معیار پر پڑتا ہے۔

انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے مطابق 15 ستمبر سے یکم نومبر 2026 کے دوران بھارت کی 7 ریاستوں میں پرالی جلانے کے 3 ہزار 316 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہر سال سردیوں میں دریائے گنگا کے میدانی علاقوں میں دھوئیں اور دھند کے گہرے بادل چھا جاتے ہیں، جس سے دہلی، پنجاب، ہریانہ اور اترپردیش شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔

ماحولیاتی ماہرین کے مطابق خطے میں فضائی آلودگی کے بڑے اسباب میں شامل ہونے کے باوجود بھارت پڑوسی ممالک کے ساتھ مشترکہ ماحولیاتی حکمت عملی اختیار کرنے سے گریزاں ہے، جبکہ فصلوں کی باقیات جلانے کے علاوہ صنعتی سرگرمیاں بھی سال بھر بھارتی فضا کو آلوہ رکھتی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت