نیشنل گرڈ کی ناکامی سے بجلی صارفین پر بھاری قیمتوں کا بوجھ

پاکستان میں نیشنل گرڈ کمپنی کے ترسیلی نظام کی ناکامی کے باعث بجلی صارفین کو سستی بجلی کے بجائے مہنگے نرخوں پر بجلی حاصل کرنا پڑ رہی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق سندھ اور جنوبی پاکستان میں پیدا ہونے والی نسبتاً کم قیمت بجلی ملک کے بڑے مراکز تک منتقل نہ ہونے کے باعث توانائی کے شعبے میں مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) کی جانب سے بجلی کی ترسیل کے نظام میں موجود رکاوٹوں کے باعث جنوبی علاقوں سے پیدا ہونے والی سستی بجلی کو ملک کے ان علاقوں تک پہنچانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں جہاں اس کی ضرورت زیادہ ہے۔ اس صورت حال کا مالی بوجھ بالآخر بجلی استعمال کرنے والے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
ترسیلی نظام کی محدود صلاحیت کے باعث بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے مہنگے ذرائع سے پیداوار پر انحصار کیا جارہا ہے۔ ان میں درآمدی کوئلہ اور ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) سے چلنے والے بجلی گھر شامل ہیں۔ ان ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کی پیداواری لاگت نسبتاً زیادہ ہونے کے باعث مجموعی نظام پر اخراجات کا دباؤ بڑھتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں ایسے ذرائع سے بھی بجلی پیدا کی جارہی ہے جن کی لاگت نسبتاً کم ہے، لیکن ترسیلی رکاوٹوں کے باعث ان کی دستیاب بجلی سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ ان ذرائع میں تھر کے کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی، جوہری توانائی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی شامل ہیں۔
توانائی کے اس تضاد نے ملک میں بجلی کے نرخوں سے متعلق بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک طرف سستی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن دوسری جانب اسے ضرورت کے مطابق صارفین تک پہنچانے میں مشکلات درپیش ہیں۔ نتیجتاً مہنگے ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔
نیشنل گرڈ کے ترسیلی نظام کی یہ صورت حال توانائی کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی اہمیت بھی واضح کرتی ہے۔ جب تک سستی بجلی کو ملک کے بڑے مراکز تک مؤثر انداز میں منتقل کرنے کی رکاوٹیں دور نہیں ہوتیں، صارفین کو مہنگی بجلی کے بوجھ سے نجات دلانا مشکل رہے گا۔
بشکریہ روزنامہ جسارت