ایران جنگ اور داخلی مسائل نے امریکی ایوانوں میں ٹرمپ کا اثر و رسوخ ختم کر دیا

واشنگٹن: غزہ اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے منفی اثرات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی جماعت کو مڈٹرم انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں واضح برتری حاصل کر کے ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف عوامی فیصلے کا اظہار کر دیا ہے۔
ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ میں 7 جبکہ ایوان نمائندگان میں 25 نشستوں سے محروم ہونا پڑا، جس سے ٹرمپ کی سیاسی گرفت کمزور پڑ گئی ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی نشستیں 54 اور ایوان نمائندگان میں 228 ہو گئی ہیں، جس کے بعد وہ قانون سازی کے عمل پر مکمل اختیار حاصل کر چکے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ کے خطرات نے انتخابی نتائج پر براہ راست اثر ڈالا ہے۔
ٹرمپ کے جارحانہ عزائم اور دیگر ممالک میں حکومتیں تبدیل کرنے کی خواہشات امریکی عوام میں عدم مقبولیت کا بنیادی سبب بنیں، جس کا اظہار ووٹ کی صورت میں ہوا ہے۔
ایرانی حکومت نے بھی اس شکست کو اپنے خلاف امریکی پالیسیوں پر عوامی رائے قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پیو ریسرچ سینٹر کا سروے ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت کی تصدیق کرتا ہے، جس میں صرف 30 فیصد امریکیوں نے ان کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا تھا، جبکہ 78 فیصد عوام ان کی پالیسیوں سے نالاں تھے۔
انتخابی نتائج کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ بیرونی محاذوں پر طاقت کے مظاہرے کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو اب اپنے ملک کے اندر سخت سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کے آئندہ 2 برس کا دور حکومت انتہائی مشکلات سے بھرپور ہوگا، کیونکہ اپوزیشن کی اکثریت کے باعث وہ کسی بھی متنازع قانون سازی یا منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔
یہ صورتحال ٹرمپ کی صدارت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے اور ان کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت