بھارتی ریاست منی پور میں نسلی فسادات، تازہ جھڑپوں میں مزید 5 افراد ہلاک ہوگئے

بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا، نسلی بنیادوں پر تازہ جھڑپوں اور فائرنگ کے واقعات میں مزید 5 افراد ہلاک ہوگئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سکیورٹی میں سنگین کوتاہی کے باعث مسلح گروہوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں 5 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
کوکی قبائلی برادری کی ایک تنظیم نے ان ہلاکتوں کا الزام ناگا علیحدگی پسند گروہوں پر عائد کرتے ہوئے واقعات کو اپنی سرزمین پر براہ راست اور بلا اشتعال حملہ قرار دیا ہے۔
منی پور میں مسیحی اکثریتی کوکی اور ناگا قبائلی برادریوں کے درمیان آبائی علاقوں کی ملکیت کے تنازع پر طویل عرصے سے کشیدگی جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریاست میں مودی حکومت کی پالیسیوں کے باعث گزشتہ تین برس سے نسلی تشدد اور پرتشدد جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
تحقیقاتی ادارے ساؤتھ ایشیا ٹیررازم کی رپورٹ کے مطابق منی پور میں مئی 2023 سے اب تک عسکریت پسندی کے 181 واقعات میں 393 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سے 95 ہلاکتیں صرف 2026 کے دوران ہوئیں۔
بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے نے بھی مودی حکومت کی مبینہ پراکسی جنگ اور منشیات کی سرپرستی کے خلاف عوامی احتجاج کی نشاندہی کی ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ریاست بھر میں گزشتہ روز ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے مسلح گروہوں اور بھارتی حکومت کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
بشکریہ روزنامہ جسارت