سستی دھات سے لمبا چلنے والی بیٹری بنانے کا راستہ کھل گیا، محققین کی کامیاب آزمائش

چینی سائنس دانوں نے ایلومینیم پر مبنی ایک نیا کیٹالسٹ تیار کیا ہے، جو مستقبل میں زیادہ پائیدار اور بہتر کارکردگی رکھنے والی سوڈیم سلفر بیٹریوں کی تیاری میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
محققین کے مطابق اس سائنسی پیش رفت سے بیٹریوں کی عمر بڑھانے اور ان کی کارکردگی برقرار رکھنے میں اہم بہتری آنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز سے وابستہ تحقیقاتی ٹیم نے سوڈیم سلفر بیٹریوں میں موجود ایک بنیادی مسئلے پر کام کیا، جس کے باعث ان کی کارکردگی وقت کے ساتھ متاثر ہوتی ہے۔
ان بیٹریوں میں سوڈیم پولی سلفائیڈز کیتھوڈ سے دور منتقل ہونے لگتے ہیں، جس سے اندرونی کیمیائی عمل متاثر ہوتا اور بیٹری کی مجموعی عمر کم ہونے لگتی ہے۔
اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے سائنس دانوں نے ایلومینیم کی ایٹمی ساخت میں تبدیلی کی اور اس میں موجود آکسیجن کے ایک ایٹم کی جگہ نائٹروجن شامل کردی۔ اس طریقہ کار کے نتیجے میں Al–O3N نامی نئی ساخت تیار ہوئی۔
محققین کے مطابق اس تبدیلی نے ایلومینیم اور سلفر کے درمیان کیمیائی تعامل کو مضبوط بنایا، جس سے بیٹری کے اندر ہونے والے ردعمل کی رفتار اور استحکام میں بہتری آئی۔
لیبارٹری میں کیے گئے تجربات کے دوران تیار کردہ بیٹری نے 100 مرتبہ چارج اور ڈسچارج ہونے کے بعد بھی 1196 ملی ایمپیئر آور فی گرام کی گنجائش برقرار رکھی۔ یہ نتیجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئے کیٹالسٹ کی مدد سے بیٹری کی توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو طویل استعمال کے دوران بہتر انداز میں برقرار رکھا جاسکتا ہے۔
تحقیق میں بیٹری کو مجموعی طور پر 2500 چارج اور ڈسچارج سائیکلز سے بھی گزارا گیا، جبکہ ہر سائیکل کے دوران کارکردگی میں کمی کی شرح محض 0.017 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ نتائج سوڈیم سلفر بیٹریوں کی پائیداری بہتر بنانے کے حوالے سے اہم قرار دیے جارہے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ مستقبل میں طویل عمر اور زیادہ مستحکم کارکردگی والی سوڈیم سلفر بیٹریوں کی تیاری میں کردار ادا کرسکتا ہے۔
اس تحقیق کا ایک اہم پہلو ایلومینیم جیسی نسبتاً سستی اور وافر مقدار میں دستیاب دھات کا استعمال بھی ہے، جس سے بیٹریوں کی تیاری میں مہنگی دھاتوں پر انحصار کم کرنے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں، تاہم اس ٹیکنالوجی کو عملی اور تجارتی سطح پر متعارف کرانے کے لیے مزید تحقیق اور تجربات درکار ہوں گے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت